شہباز گِل نے ضمانت کے لیے درخواست دائر کردی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی۔
دوسری جانب حکومت نے سیشن کورٹ سے شہباز گل کے ریمانڈ کی استدعا مسترد ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی ہے ۔قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عمر فاروق درخواست پر پیر کو سماعت کریں گے۔

اسلام آباد
شہبازگل کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان خان نے سماعت کی، دورانِ سماعت صدر ڈسٹرکٹ بار حفیظ اللہ یعقوب، وکیل فیصل چوہدری اور علی بخاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس میں گرفتار شہباز گل کی جانب سے اسلام آباد کے سیشن کورٹ میں دائر درخواست میں مقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کیا، تفتیش میں پولیس شہباز گل پر کوئی الزامات ثابت نہیں کر سکی۔ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی لہذا ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جائے۔اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہاز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری کے کیس میں تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کو وٹس جاری کرکے پیر تک جواب طلب کرلیا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے سیشن کورٹ سے شہباز گل کے ریمانڈ کی استدعا مسترد ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی ہے ۔قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عمر فاروق درخواست پر پیر کو ہی سماعت کریں گے۔
درخواست میں شہباز گل و دیگر کو فریق بناکر مطالبہ کیا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا آرڈر کالعدم قرار دے کر پی ٹی آئی رہنما کا جسمانی ریمانڈ منظور کریں۔دائر درخواست کے متن کے مطابق عدالت ڈیکلیئر کرے کہ شہباز گل کیس میں جوڈیشل حکم نہیں تھا بلکہ ایڈمنسٹریٹو آرڈر کیا گیا۔
یاد رہے کہ جمعہ کو عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست میں مقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی لہذا ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جائے۔
اسلام آباد پولیس نے 9 اگست بروز منگل شہباز گل کو بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا تھا۔ ان پر اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات اور ان کے سربراہوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے سمیت 10 مقدمات درج ہیں۔