بیوی اور بیٹی سے بہت ڈرتا ہوں، خلیل الرحمان قمر نے سچ سچ بتادیا

خرچے کے پیسے بھی اہلیہ سے لیتا ہوںان کے سامنے کوئی اوقات نہیں
کم عمری میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پسند تھے خاص طور پر ان کا کوٹ بہت پسند تھا
شادی کو 20 سال ہوچکے میں اور اہلیہ بنک میں کام کرتے تھے ،ایک بیٹی ہے ، مستقبل میں پروڈکشن ہائوس کھولنے کا ارادہ ہے


اسلام آباد:معروف ڈراما ساز خلیل الرحمن قمر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی سے بہت ڈرتے ہیںِ اور بیوی کے سامنے ان کی کوئی اوقات اور حیثیت نہیں ہوتی، وہ ان سے خرچے کے پیسے تک مانگتے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے پہلی بار اپنی گھریلو زندگی سے متعلق بات کرنے کے علاوہ بیوی اور بیٹی کو بھی انٹرویو میں ساتھ بٹھایا۔
پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے خلیل الرحمن قمر نے بتایا کہ جب وہ کم عمر تھے تو انہیں ذوالفقار علی بھٹو پسند تھے اور ان کا لباس انہیں خصوصی طور پر پسند ہوتا تھا، ان کی خواہش ہوتی تھی کہ بھٹو جیسا کوٹ انہیں مل جائے تو ان کے مزے ہوجائیں۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے گھریلو زندگی پر بھی بات کی اور بتایا کہ گھر میں ان کے بجائے ان کی اہلیہ کی حکمرانی چلتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ان پر اہلیہ کافی سختیاں کرتی تھی اور ان کے پاس کسی لڑکی کو گزرنے کی اجازت تک نہ ہوتی تھی مگر اب ایسا نہیں۔
ان کے مطابق وہ کماتے ضرور ہیں مگر پیسے کا حساب کتاب ان کی اہلیہ رکھتی ہیں اور وہ ان سے اپنے اخراجات مانگتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے حساب سے ان کے اخراجات بڑھ چکے ہیں اور وہ اہلیہ سے ہر وقت پیسے مانگتے رہتے ہیں۔ڈراما ساز کے مطابق اہلیہ کے سامنے ان کی کوئی عزت و اوقات نہیں، گھر میں ان کی اہلیہ کی حکمرانی چلتی ہے۔
دوران انٹرویو ان کی اہلیہ روبی خلیل نے بھی بات کی اور بتایا کہ پہلے دونوں ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے، جس کے بعد انہوں نے شادی کرلی اور ان کی شادی کو 20 سال گزر چکے ہیں۔روبی خلیل کے مطابق ان کے شوہر کی آئیڈیل عورت وہی ہیں اور انہیں دیکھ کر ہی شوہر خود مختار اور بولڈ عورت کا کردار تخلیق کرتے ہیں جب کہ وہ لکھنے سے پہلے ان سے مشورہ کرتے ہیں۔
ڈراما ساز کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ پہلے وہ زیادہ سخت ہوتی تھیں مگر اب وہ کچھ نرم مزاج کی ہوچکی ہیں اور اب عورتیں آکر ان کے شوہر کے کندھوں پر بیٹھ جاتی ہیں۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اب عورتیں آکر ان کے شوہر سے چپک جاتی ہیں۔
پروگرام کے دوران خلیل الرحمن کی اکلوتی بیٹی نوشاب خلیل نے بتایا کہ کسی بھی خاتون کا کردار لکھنے کے بعد والد انہیں وہ کہانی سناتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے والد لکھتے وقت روتے رہتے ہیں اور ٹشو پیپر ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمن قمر نے بتایا کہ مستقبل میں ان کا پروڈکشن ہاوس کھولنے کا ارادہ ہے اور اگر ایسا ہوا تو پروڈکشن ہاوس کی سربراہی ان کی بیٹی ہی کریں گی۔