اسلام آباد: کامسٹیک فورم آن انوائرمنٹ اینڈ ایکو سسٹم ریسٹوریشن نے "ساحل میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت سے نمٹنے کے حل” کے موضوع پر ایک بین الاقوامی ورچوئل سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کی میزبانی کامسٹیک فورم آن انوائرنمنٹ اینڈ ایکو سسٹم ریسٹوریشن نے برسلز (بیلجیئم) میں واقع ساحل اتحاد، اوگاڈوگو (برکینا فاسو) میں قائم مستقل بین الریاستی کمیٹی برائے خشک سالی کنٹرول (سلز) ، ریجنل کائمیٹ سنٹر برائے مغربی افریقہ اور ساحل، نیامی (نائیجر)، اسلامک آرگنائزیشن فار فوڈ سیکیورٹی جو کہ نور سلطان، قازقستان میں واقع ہے کے تعاون سے کیا۔
یہ تقریب 26 ستمبر 2022 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سائنس سمٹ کے دوران منعقد ہوئی۔کامسٹیک کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی سفیر شاہد کمال نے سیمینار کے شرکا کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ عالمی برادری کے بڑے مفاد میں ہے۔ سفیر کمال نے کہا کہ خستہ حال زمینیں مزید خوراک پیدا نہیں کر سکتی۔برسلز میں قائم ساحل اتحاد کے اعلی نمائندے ڈاکٹر جیم اڈوم نے سیشن سے خطاب کیا اور اقوام کو زمین کی منصفانہ تقسیم اور خوراک کی حفاظت کے لیے سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون بڑھانے کا مشورہ دیا۔افریقہ اور آسیان ممالک کے ساتھ یورپی کمیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعی تعاون کے پالیسی آفیسر، ڈاکٹر ونسینزو لوروسو نے خوراک اور غذائیت کی حفاظت اور پائیدار زراعت اور افریقن یونین اور یورپین یونین ایجنڈا کے بارے میں شراکت داری پر سیشن میں ایک جامع پریزنٹیشن دی۔ کامسٹیک فورم کے سیمینار نے مغربی افریقہ میں غذائی تحفظ کے سنگین بحران پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ تقریب گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں منعقدہ عالمی فوڈ سیکورٹی سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی جس کا اہتمام افریقی یونین، یورپی یونین اور امریکہ نے مشترکہ طور پر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا تھا۔کامسٹیک نے برکینا فاسو میں واقع ساحل میں خشک سالی پر قابو پانے کے لیے سلز کی مستقل بین ریاستی کمیٹی کے ساتھ تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے نے کامسٹیک کو اس کے دو خصوصی اداروں – نائیجر میں علاقائی مرکز اور مالی میں ساحل انسٹی ٹیوٹ سے جوڑ دیا ہے۔ او آئی سی کے دو ادارے – اسلامک آرگنائزیشن فار فوڈ سیکیورٹی ، قازقستان، اور اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن جو مراکش بھی اس میں شامل ہیں۔بینن، برکینا فاسو، چاڈ، چین، گیمبیا، گھانا، مالی، نائجر، پاکستان اور برطانیہ کے دس ماہرین نے سیمینار کے تکنیکی سیشن میں شرکت کی اور غذائی تحفظ کے مختلف جہتوں سے خطاب کرتے ہوئے 12 منٹ طویل پریزنٹیشنز دیں۔ ساحل میں غذائیت کی کمی سیشن کی نظامت ڈاکٹر عرفان عزیز، ایسوسی ایٹ پروفیسر، جامعہ کراچی، پاکستان نے کی۔ اس سیمینار میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے 164 افراد نے اپنی رجسٹریشن کرائی۔سیمینار کا مقصد ساحل میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے پائیدار حل پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔ غذائی تحفظ کے بڑے چیلنجز جیسے توانائی کے وسائل کا پائیدار استعمال، آب و ہوا کی سمارٹ حکمت عملیوں کا استعمال، زرعی پیداوار سے متعلق پہلوں اور توانائی سے متعلق اسمارٹ فوڈ چینز اور کلائمیٹ اسمارٹ زراعت جو کہ بھوک کو ختم کرنے، غذائی تحفظ کے حصول، غذائیت کو بہتر بنانے اور پائیدار غذا کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ساحل کے علاقے میں زراعت پر پائیدار خوراک کے نظام کے قیام کے لیے ٹھوس کوششوں کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔


