مچھلی، چکن، گائے کا گوشت، انڈے، پنیر، گریاں،سبزیاں گاجر، گوبھی، ٹماٹر اور زیتون کھائیں شوگر دور بھگائیں

نیویارک :امریکہ میں ہونے والی ایک جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کیسے ذیابیطس کے مریض بعض مخصوص غذائوں کا استعمال کر کے اپنی بلڈ شوگر کو کم سطح پر رکھ سکتے ہیں ۔اس سلسلے میں ایک مخصوص غذا کا استعمال مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق کم کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے کے لیے مفید ہے۔
Tulane یونیورسٹی کی تحقیق میں شامل جن افراد نے 6 ماہ تک کم کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا کا استعمال کیا ان کے بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی آئی۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض کسی وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔
ذیابیطس کی تشخیص سے قبل مریض میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے جس کے لیے Prediabetes کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اس تحقیق میں 40 سے 70 سال کی عمر کے ایسے ہی افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کا بلڈ شوگر لیول تو زیادہ تھا مگر وہ ذیابیطس کے شکار نہیں ہوئے تھے۔ان افراد نے بلڈ شوگر کا علاج نہیں کرایا تھا اور ان کے 2 گروپس بنائے گئے۔ایک گروپ کو 6 ماہ تک معمول کی غذا جبکہ دوسرے کو کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا کے استعمال کا مشورہ دیا گیا۔
اولین 3 ماہ کے دوران کم کاربوہائیڈریٹ والے گروپ نے روزانہ 40 گرام سے کم کاربوہائیڈریٹس کو غذا کا حصہ بنایا جبکہ آخری 3 ماہ کے دوران یہ مقدار 60 گرام تک کردی گئی۔
کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاں میں مچھلی، چکن، گائے کا گوشت، انڈے، پنیر، گریاں اور مختلف سبزیاں جیسے گاجر، مرچ، گوبھی، ٹماٹر اور زیتون قابل ذکر ہیں۔ان افراد کو محققین کی جانب سے ان غذائوں کے بارے میں آگاہ بھی کیا گیا تاکہ انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔محقین نے ان افراد کا معائنہ پہلے 3 ماہ اور پھر 6 ماہ بعد کیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا استعمال کرنے والے افراد میں ہیموگلوبن اے 1 سی کی سطح میں نمایاں کمی آئی۔ہیموگلوبن اے 1 سی کی سطح سے جسم میں بلڈ گلوکوز کی سطح کا عندیہ ملتا ہے۔
اس گروپ میں خالی پیٹ بلڈ شوگر کی سطح، جسمانی وزن، انسولین کی سطح اور توند کی چربی میں بھی نمایاں کمی دریافت ہوئی۔
محققین نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی حتمی تصدیق ہوسکے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مخصوص غذا سے یہ فائدہ ہوا یا دیگر عناصر نے بھی کردار ادا کیا۔
تحقیق کے دوران یہ دریافت ہوا کہ اس گروپ میں شامل افراد نے اوسطا روزانہ 400 کم کیلوریز کو جزوبدن بنایا۔اسی طرح ان کے جسمانی وزن میں بھی اس عرصے کے دوران 6 کلو گرام سے زیادہ کی کمی آئی۔
محققین کے مطابق تحقیق میں ہائی بلڈ شوگر کے شکار افراد پر توجہ مرکوز کی گئی تھی اور عندیہ ملتا ہے کہ غذا ذیابیطس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ غذا کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانے سے بھی ذیابیطس سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج جریدے JAMA نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔



