عدالتی فیصلہ پرویز الہٰی کی جیت، اسمبلی بھی بچ گئی اور وزارت اعلیٰ بھی

عدالتی فیصلے سے عمران خان کی جلد انتخابات کی خواہش کو ایک اور دھچکا
نہ صرف پنجاب اسمبلی بچ گئی بلکہ خیبر پختون خوا اسمبلی کی تحلیل بھی غیر معینہ مدت تک ملتوی
بدلتے حالات میں عمران نے باجوہ کا نام نہ لینے کی پرویز الٰہی کی وارننگ بھی نظر انداز کر دی


اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک )لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے گورنرپنجاب کا وزیراعلیٰ کوا عتماد کو ووٹ لینے کا حکم معطل کرتے ہوئے پرویز الہٰی کو بھی اسمبلی تحلیل کرنے سے روک دیا ہے اور 11 جنوری کو فریقین کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔
موجودہ عدالتی فیصلے کو وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی جیت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں تھے اور برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے تھے۔ ان کے مطابق نہ صرف وہ بلکہ اراکان اسمبلی کی اکثریت بھی اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ہے لیکن پارٹی قائد کا حکم سر آنکھوں پر ہے۔
اس عدالتی فیصلے سے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی جیت ہوئی ہے وہاں مسلم لیگ ن بھی فائدے میں رہی جو کسی بھی صورت اکتوبر 2023 سے قبل انتخابات کے حق میں نہیں ہے۔ تاہم اس فیصلے سے سابق وزیراعظم عمران خان کی جلد سے جلد عام انتخابات کروانے کی کوششوںکو ایک اور شدید دھچکا لگا ہے جو وہ اس حوالے سے پے درپے ناکامیوں کے بعد پہلے بھی بیک فٹ پر جا چکے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنماء بار بار یہ کہ رہے ہیں کہ جلد ہی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی اور اس عدالتی فیصلے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کو بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ اس عمل سے اسمبلی ٹوٹنے میں تاخیر ہوگی اور اس کا اثر عام انتخابات پر بھی پڑے گا اور اس صورت حال میں کم از کم اس سال رمضان سے قبل تو انتخابات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا ہے۔
عمران کے لئے یہ بات بھی خاصی تکلیف دہ ہوگی کہ اس فیصلے سے نہ صرف پنجاب اسمبلی بچ گئی ہے بلکہ خیبر پختون خوا اسمبلی کی تحلیل بھی غیر معینہ مدت تک ملتوی ہو گئی ہے۔ حالانکہ عمران خان نے دونوں وزراء اعلیٰ کو ساتھ بٹھا کر اعلان کیا تھا کہ دونوں اسبملیاں 23 دسمبر کو تحلیل کر دی جائیں گی لیکن اس فیصلے کا اثر کے پی کے اسمبلی پر بھی پڑا اور وہ بھی ٹوٹنے سے بچ گئی۔
ا ن بدلتے حالات نے عمران خان کو اس قدر دلبرداشتہ کر دیا ہے کہ انہوں نے جنرل (ر) باجوہ کا نام نہ لینے کی وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کی وارننگ بھی نظر انداز کر دی ہے جس پر وہ بمشکل دو دن ہی عمل کر پائے تھے۔
اس صورت حال کے بعد عمران خان نے لاہور زمان پار ک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر سنئیر صحافیوں سے ایک ملاقات کی اور باجوہ کا نہ صرف نام لیا بلکہ ان پر کھل کر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ یہ جنرل باجوہ ہی تھی جنہوں نے سب کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا تھا۔
اب دیکھیں کہ پرویز الہٰی کی وارننگ نظر انداز کرنے کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں اور پرویز الہٰی اپنے محسن کی عزت کے لئے کس حد تک جاتے ہیں یا جاسکتے ہیں ۔