جاپانی حکومت اپنے ہی سات ہزار نئے جزائر سے لاعلم

دوبارہ گنتی پر عقد کھلا کہ اس کے یہاں 7 ہزار مزید جزیرے ہیں جنہیں پہلے کبھی شمار نہیں کیا گیا


ٹوکیو:جاپانی حکومت کو حیرت کا ایک خوشگوار جھٹکا اس وقت لگا جب اس نے اپنے جزائر کی دوبارہ گنتی کی تو معلوم ہوا کہ اس کے یہاں 7 ہزار مزید جزیرے ہیں جنہیں پہلے کبھی شمار نہیں کیا گیا۔
جاپان کی جیو اسپیشل انفارمیشن اتھارٹی (جی ایس آئی) کو ڈیجیٹل نقشوں کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ملک میں چھ ہزار نہیں بلکہ کل 14 ہزار 125 جزیرے ہیں۔1987 میں کوسٹ گارڈ کی رپورٹ کے مطابق جزائر کی تعداد 6 ہزار 852 تھی، ہر جگہ پر یہی تعداد بیان کی جاتی تھی۔گو کہ نئے جزیرے شمار کیے گئے ہیں لیکن جاپان کے کل رقبے کو نہیں بڑھایا گیا۔
جی ایس آئی کا کہنا ہے کہ جزائر کی گنتی کیلئے کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں ہے لہذا 35 سال قبل کیے گئے سروے کے ضوابط کے مطابق ہی نئی گنتی کی گئی ہے لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال سے درست تعداد سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ جاپان کے گرد موجود جزیروں پر کئی علاقائی تنازعات بھی ہیں۔
جاپان، روس کے جنوبی کیورل جزائر پر ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور انہیں اپنا شمالی علاقہ کہتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع جنگ عظیم دوئم سے چلا آ رہا ہے۔
جاپان مشرقی چینی سمندر کے غیر آباد سینکاکو جزائر پر بھی دعوی کرتا ہے جو اس وقت جاپان ہی کے زیر نگرانی ہیں لیکن چین نے بارہا جاپان کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا کے مابین 70 سال سے چند جزیروں پر تنازع ہے، سیئول ان جزائر کو ڈوکدو اور ٹوکیو تاکیشیما کہتا ہے۔