آرمی چیف تعیناتی کے وقت مارشل لا ء کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا؛ شہباز شریف

جولائی 2018 سے قبل ایک ملاقات میں جنرل قمر باجوہ، جنرل نوید مختار اور جنرل فیض حمید کی موجودگی میں وزیراعظم بننے کی پیشکش ہوئی
میں نے ان پر واضح کیا اپنے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کے وزیراعظم بن جائوں گا تو ایسی وزارت عظمی میں دس مرتبہ قربان کرنے کو تیار ہوں


اسلام آباد:وزیراعظم پاکستان میاں محمدشہباز شریف نے کہا ہے کہ نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت مارشل لا کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا،2018 ء میں مجھے وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی تھی۔ میرے انکار کے بعد عمران خان کا انتخاب کیا گیا۔ یہ انکشاف انہوں نے جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جولائی 2018 سے قبل ایک مرتبہ جنرل قمر باجوہ، جنرل نوید مختار اور جنرل فیض حمید کے ساتھ میری ایک میٹنگ ہوئی تھی اور تینوں کی موجودگی میں میں نے بغیر کسی کا نام لیے یہ کہا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کے وزیراعظم بن جاں گا تو ایسی وزارت عظمی میں دس مرتبہ قربان کرنے کو تیار ہوں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت ایک رات ایسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی کہ ملک میں مارشل لا نافذ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ان کے اس جواب پر میزبان حامد میر نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایسی ایک رات آئی تھی جب مجھے بھی براہ راست یہ پیغام دیا گیا تھا کہ مارشل لا لگ سکتا ہے۔
حامد میر نے جب ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آرمی چیف کے لئے بھیجی جانے والی پہلی سمری میں جنرل عاصم منیر کا نام شامل نہیں تھا تو اس کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ پاک فوج کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سمری بھیجنے میں اگرچہ لیت و لعل سے ضرور کام لیا گیا اور اس میں تاخیر کی گئی تاہم جب سمری میرے پاس پہنچی تو جنرل عاصم منیر کا نام اس میں پہلے نمبر پر موجود تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جولائی 2018 سے قبل ایک مرتبہ جنرل قمر باجوہ، جنرل نوید مختار اور جنرل فیض حمید کے ساتھ میری ایک میٹنگ ہوئی تھی اور تینوں کی موجودگی میں میں نے بغیر کسی کا نام لیے یہ کہا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کے وزیراعظم بن جائوں گا تو ایسی وزارت عظمی میں دس مرتبہ قربان کرنے کو تیار ہوں۔ نواز شریف میرے بھائی ہیں، میرے لیڈر ہیں، میرے باپ کی طرح ہیں۔ سیاست میں، جمہوریت میں اختلاف رائے ہونا اس کا حسن ہے۔ تو جب کبھی ایسی صورت حال آتی ہے تو میں انہیں اپنا مقف بند کمرے میں یا چند قریبی لوگوں کی میٹنگ میں دیتا ہوں۔ میرا مقف کبھی وہ تسلیم کرتے ہیں اور کبھی تسلیم نہیں بھی کرتے، وہ لیڈر ہیں اور یہ ان کی مرضی ہے۔
اس جواب پر حامد میر کا کہنا تھا کہ اگر آپ یہ آفر قبول کر لیتے تو عمران خان ملک کے وزیر اعظم نہ بنتے۔ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں ایسی تہمت لے کر وزیر اعظم بننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔