اسلام آباد: ہمارے معاشرے میں علما کا بے حد احترام ہے یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جس سے لوگوں میں شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔دل سمیت بہت سی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ غیر صحت مند خوراک کا استعمال بھی ہے۔ علما لوگوں کو ان غیر صحت بخش کھانوں کے نقصانا ت سے آگاہ کریں۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے علما سے ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا جس کا اہتمام پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا۔
کانفرنس میں علما کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی مہمانوں میں پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعودالرحمن کیانی، وزارت صحت میں نیوٹریشن کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر خواجہ مسعود، NIHسے ڈاکٹر تنویر ابراہیم، سابق ڈی۔جی۔ صحت ڈاکٹر فیاض رانجھا، ڈی۔ایس۔پی۔ مرزا طائر سکندر، گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی کے کنسلٹنٹ منور حسین، صحت کے مائرین اور میڈیا کے نمائندگان شامل تھے۔
تقریب کی میزبانی پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناہ اللہ گھمن نے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل (ر) مسعودالرحمن کیانی نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر میں علما کا کردار نہا یت اہم ہے۔ معاشرے میں انہیں عزت اور توقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پناہ پچھلے 40سال سے لوگوں کو دل اور متعلقہ بیماریوں سے بچا ئوکی آگائی کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ان بیماریوں کے تیزی سے پھیلائو کی ایک بڑی وجہ مضر صحت کھانوں کا استعمال بھی ہے۔علما سے ہماری درخواست ہے کہ وہ لوگوں کو ان نقصانات سے آگاہ کریں۔
ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد نے کہا کہ ملک میں جس تیزی سے بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہ بہت تشویشناک ہے۔ ہمیں ہر فورم پر یہ آواز بلند کرنا ہو گی کہ بیماریوں کی وجہ بننے والی مضر صحت غذائیں جیسے میٹھے مشروبات کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ڈاکٹر تنویر ابراہیم نے کہا کہ پناہ لوگوں کی صحت کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ پناہ کی یہ کاوشیں ہم سب کے لیے inspiration کا باعث بنتی ہیں۔ علما کے زریعے دیا گیا پیغام بہت ہی حوصلہ افزا نتائج کا باعث بنے گا۔ طائر سکندر نے کہا کہ ممبر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جس کے زریعے دیا گیا پیغام سب سے زیادہ موئثر طریقے سے عوام تک پہنچتا ہے کیونکہ اس پلیٹ فارم سے کہی گہی بات انتہائی توجہ اور احترام سے سنی جاتی ہے۔ علما کی طرف سے ایک صحت مند معاشرے کا پیغام لوگوں میں شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کرے گا۔ڈاکٹر فیاض رانجھا نے کہا کہ پاکستان میں بیماریوں کی شرح علاقے کے دیگر ممالک سے بہت زیادہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مضر صحت غذاں کے بارے میں مناسب قانون سازی نہ ہونا ہے۔ پناہ عوامی صحت کے لیے بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ علما سے ہماری درخواست ہے کہ وہ عوام کو شعور دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔منور حسین نے کہا کہ پاکستان میں بیماریوں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ پاکستان کی 41.3فیصد آبادی موٹاپے کا شکار ہے جو بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
اسی طرح پاکستان زیابیطس کے 3کروڑ 30لاکھ لوگوں کے ساتھ زیابیطس کے ساتھ زندہ رہنے والے لوگوں کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ان کے علاوہ ایک کروڑ لوگ ابتدائی درجے کی زیابیطس میں مبتلا ہیں۔ جس تیزی سے زیابیطس کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے اس میں پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ ان بیماریوں کی ایک بڑی وجہ میٹھے کا زیادہ استعمال ہے اور میٹھے کا سب سے زیادہ استعمال میٹھے مشروبات کی صورت میں ہوتا ہے جن کے ایک گلاس میں 7سے 8چمچ چینی موجود ہوتی ہے۔ ان کے استعمال میں کمی کا ایک آزمودہ طریقہ انہیں مہنگاکر کے عوام کی پہنچ سے دور کرنا ہے۔ دنیا کے 50سے زیادہ ممالک نے ان مضر صحت مشروبات پر ٹیکس بڑھا کر ان سے استعمال میں کمی لائی۔ اس طرح نہ صرف لوگوں کی صحت بہتر ہوئی بلکہ حکومت کے ریوینیومیں بھی اضافہ ہوا۔
ثناہ اللہ گھمن نے کہا کہ پناہ اپنے لوگوں کو دل اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔ عوام کو بیماریوں سے بچا کی آگائی دینے کے ساتھ ساتھ پناہ قانون ساز اداروں کے ساتھ مل کر ایسی مضر صحت اشیا کے بارے میں قانون سازی میں مدد کر رہا ہے تا کہ ان کے استعمال میں کمی آئے اور لوگوں کی صحت بہتر ہو۔ نوجوان ہماری قوم کا مستقبل ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کی بھاگ ڈور صحت مند نسل کے ہاتھ میں منتقل کرنا ہو گی۔ آج ہم اپنے علما کے ساتھ مل کر اپنے لوگوں کو شعور دینے کے لیے ممبر پلیٹ فارم کے استعمال کے لیے درخواست کرنے آئے ہیں جو ملک کا موئژ ترین پلیٹ فارم ہے۔ آپ کی بات انہتائی توجہ اور احترام سے سنی جاتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ عوام کوآگئی دیں گے کہ وہ ان مضر صحت اشیا کا استعمال ترک کر کے صحت مند کھانوں کے استعمال کو فروغ دیں گے۔دیگر مقررین صحت نے بھی بیماریوں میں غیر ضروری غذا اورر زیادہ میٹھے کے استعمال کے نقصانات پر روشنی ڈالی۔ پناہ کے ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر عبدلقیوم اعوان نے علما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے درخواست کی امید ہے کہ علما اپنے پلیٹ فارم سے یہ آواز ضرور بلند کریں گے۔


