چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا
عمر عطا بندیال سمیت تین ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے یہ فیصلہ ہی ان ججز کے خلاف چارج شیٹ ہے،نوازشریف
پارلیمان میں آمریت نہیں مانتے تو اعلی عدلیہ میں کسی کی آمریت کو کیسے تسلیم کرلیں ؟بدنیتی نہیں تو لارجر بینچ کے مطالبے میں مسئلہ کیا ہے؟ بلاول بھٹو
14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے،وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر

اسلام آباد:پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن 90 دن سے آگے نہیں جاسکتا، الیکشن کمیشن کے غیر قانونی فیصلے سے 13 دن ضائع ہوئے، آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو تاریخ میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کی 8 اکتوبر کی تاریخ دے کر دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، 30 اپریل سے 15 مئی کے درمیان صوبائی انتخابات کرائے جائیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن پروگرام 13 دن آگے کرنے اور الیکشن کمیشن کو الیکشن ٹریبونلز سے دوبارہ کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلے میں نگران حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت کو الیکشن کمیشن کی معاونت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کی معاونت نہیں کی جاتی تو الیکشن کمیشن ہمیں آگاہ کرے۔فیصلے میں مزید ہدایت دی گئی ہے کہ الیکشن کے لیے درکار سیکیورٹی اور فنڈز فراہم کیے جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی 10 اپریل کو جمع کروائے جائیں، حتمی لسٹ 19 اپریل تک جاری کی جائے، انتخابی نشانات 20 اپریل کو جاری کیے جائیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ 30 اپریل سے 15 مئی کے درمیان صوبائی انتخابات کرائے جائیں، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیلیں جمع کرانیکی آخری تاریخ 10 اپریل ہوگی، 17 اپریل کو الیکشن ٹریبونل اپیلوں پر فیصلہ کرے گا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو فنڈز کی مد میں 10 اپریل تک 21 ارب جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن 11 اپریل کو فنڈ کی وصولی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے، فنڈز نہ جمع کروانے کی صورت میں عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت، اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی میں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو ضرورت کے مطابق امداد اور تعاون فراہم کرنے کی پابند ہے۔عدالت عظمی نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ پہلے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے فنڈز استعمال کرے اور مزید کہا کہ اگر بعد میں خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز میں کمی ہوئی تو عدالت مناسب فیصلہ جاری کرے گی۔
عدالت نے پنجاب کی نگراں حکومت، انسپکٹر جنرل اور چیف سیکریٹری (سیکیورٹی) کو 10 اپریل تک انتخابی ادارے کو سیکیورٹی پلان فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت پنجاب اور اس کے تمام عہدیداران کوکسی بھی صورت میں آئینی اور قانونی فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کو فعال طور پر ہر طرح کی مدد اور تعاون فراہم کرنا چاہیے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو مسلح افواج، رینجرز، کانسٹیبلری سمیت کمیشن کو سیکیورٹی اور دیگر مقاصد کے لیے درکار تمام وسائل کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 17 اپریل تک پلان فراہم کرے۔سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر مرکز یا پنجاب کی نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تعاون و مدد فراہم کرنے میں ناکام رہی تو کمیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور اس معاملے پر مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے یاد دہانی کرائی کہ گورنر خیبر پختونخوا کے وکیل ایک سیاسی جماعت کی طرف سے اٹھائے گئے ایک خاص موقف کی وجہ سے عدالت میں پیشی سے دستبردار ہو گئے تھے۔عدالت عظمی نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا عدالت کے سامنے نمائندگی سے محروم ہو گئے ہیں، خیبر پختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر فیصلہ نہیں کیا گیا، درخواست گزاروں کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ کسی مناسب فورم کے سامنے ایسی پٹیشن دائر کریں تاکہ ریلیف حاصل کر سکیں۔
سپریم کورٹ نے حکم میں اپنے یکم مارچ کے فیصلے کا بھی ذکر کیا، گزشتہ ماہ 3-2 کے حکم میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات 90 دن کے اندر کرائے جائیں۔
تاہم حکومت نے عدالت کی ان ہدایات سے اختلاف کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ کے اضافی نوٹ لکھنے پر اسے 3-4 کا فیصلہ قرار دیا تھا، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ ان چار ججز میں شامل تھے جنہوں نے اضافی نوٹ لکھتے ہوئے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھایا تھا، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چیف جسٹس کی جانب سے ازخود نوٹس لینے کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھایا تھا۔
اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بصد احترام اقلیت میں موجود قابل احترام ججوں نے جو موقف اختیار کیا وہ غلط ہے اور قانونی لحاظ سے پائیدار نہیں۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین خان کے 29 مارچ کے فیصلے کا آج کے حکم میں دیے گئے کسی مشاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔12 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں ججوں نے سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں ترامیم کیے جانے تک ازخود نوٹس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سماعتوں کا احوال
29 مارچ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی تیسری سماعت میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے تھے کہ 4 ججز نے پی ٹی آئی کی درخواستیں خارج کیں، ہمارے حساب سے فیصلہ 4 ججز کا ہے، چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف دی کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے تاریخ کیسے دی اور الیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے جاری کیا؟
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے، دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پر غالب نہیں آسکتا۔ 30 مارچ بروز جمعرات کو ہونے والی چوتھی سماعت میں جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد 5 رکنی بینچ ٹوٹ گیا تھا۔بعدازاں عدالتی عہدیدار نے اعلان کیا تھا کہ کیس کی سماعت 4 رکنی بینچ 31 مارچ (جمعہ کو) کرے گا۔
31 مارچ بروز جمعہ کو ہونے والی پانچویں سماعت کے دوران بینچ کے ایک اور جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے بھی معذرت کرلی جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سید منصور علی شاہ جیسے سینیئر ججوں سے اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا جس میں عدلیہ کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی۔چیف جسٹس نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس کیس کی فل کورٹ سماعت ممکن نہیں ہے، تاہم تمام ججوں کی فل کورٹ میٹنگ ممکن ہے جو سپریم کورٹ کے رولز میں ترامیم کے لیے جلد منعقد کی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایسے حالات بھی ہوسکتے ہیں جب انتخابات ملتوی ہوسکیں، وفاقی حکومت نے ایسا کوئی مواد نہیں دیا جس پر الیکشن ملتوی ہوسکیں، انتخابات کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا، عدالت نے توازن قائم کرنا ہوتا ہے، حکومت اور دیگر فریقین کی درست معاونت نہیں ملی۔چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ الیکشن میں بدمزگی ہوئی تو ملبہ عدالت پر آئے گا، سیاسی مذاکرات کا آپشن اسی لیے دیا گیا تھا، آئین واضح ہے کہ الیکشن کب ہونے ہیں، مذاکرات کے آپشن کا کوئی جواب نہیں آیا، لوگ کہتے ہیں وہ آئین سے بالاتر ہیں، لوگ من پسند ججز سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں۔
قبل ازیں 25 مارچ کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے 14 اپریل کو پنجاب میں انتخابات کا حکم جاری کیا۔
دوسری طرف وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیاہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو پارلیمنٹ کی قرارداد سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے لہذا کابینہ اسے مسترد کرتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل عمل نہیں ہے۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایوان میں آواز بلند کرے گی، اتحادی جماعتیں ایوان میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کریں گی، سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایوان میں حکومت اپنا مقف پیش کرے گی۔
کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے متعلق مختلف آپشنز کے حوالے سے ٹاسک دے دیا، اجلاس میں اتفاق ہوا کہ کوئی فورم خالی نہیں چھوڑا جا سکتا، اقلیتی فیصلے کو زبردستی اکثریت پر نہیں تھوپا جا سکتا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ملک کسی بھی آئینی اور سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا ، تمام اتحادیوں نے وزیر اعظم کو مکمل اعتماد کا یقین دلایا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر حکومتی اتحادی جماعتوں کا شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے
سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت تین ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے ۔لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھاکہ ہم جیسے وزیراعظم کودھکادیا جاتا ہے اورڈکیٹیٹرکوگلے لگایا جاتا ہے، مجھے گاڈ فادر اورسیسلین مافیا کہا گیا، دوہرے معیار سمجھ نہیں آرہے، پاکستان کے اندرحکومتیں اب کس طرح چلاکریں گی؟ جیسا پاکستان میں ہورہا ہے کیا جنوبی ایشیا یا دنیا کے دیگرممالک میں ایسا ہوتا ہے؟انہوں نے کہا کہ ہم 70 سال سے یہی دیکھ رہے ہیں، 1953 سے نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے آ رہے ہیں، 70 سالوں سے یہی تماشہ بار بار دیکھ رہے، منتخب حکومت کو نکال دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ کیا نظریہ ضرورت صرف ڈکٹیٹرز کیلیے ہوتا ہے؟ باربارمنتخب وزرائے اعظم کوچلتا کیا جاتا ہے، 3 ججز کا بینچ 4 ججز کے فیصلے کو نہیں مان رہا، یہ فیصلہ نہیں ون مین شو ہے، اس کیس کا فیصلہ 4 ججز کا پہلے ہی آ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تین ججز کے خلاف فیصلے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے، یہ فیصلہ ہی ان ججز کے خلاف چارج شیٹ ہے، انہوں نے آئین ری رائٹ کیا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے چیف جسٹس پاکستان کا وزیراعظم، وزیردفاع، وزیرداخلہ، چیف الیکشن کمشنر اور پارلیمنٹ بن جائے، فل کورٹ کیوں نہیں بنائی گئی؟ تین ججزپر ہی اصرار کیوں؟
سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ کہتے ہیں ہم ججز کا تحفظ کریں گے ، ایسے ججز کا تحفظ کریں گے تو ادارے کا کیا کریں گے؟ قوم کو آپ کیا باتیں سنا رہے ہیں، ہمیں یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں، قوم کو کہتے ہیں کہ جاگے یہ پاکستان کو برباد کررہے ہیں، ہمارے فل کورٹ کے مطالبہ پر کیوں عمل نہیں کیا گیا؟ فل کورٹ بنانے میں کیا امرمانع تھا، اس سے پتاچلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے، دو ججز میرے خلاف ظالمانہ فیصلے کا حصہ ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ کہتے ہیں یہ کالا فیصلہ تھا تو پھر کیا آپ نے اس کو سفید کیا؟ آپ انصاف پسند ہیں تو آپ کو یہ فل کورٹ بینچ بنانا چاہیے تھا، میں نے کہا تھا کہ اگر اس طرح کے فیصلے آئیں گے تو ڈالر 500 روپے کا ہوجائے گا، اس طرح کے فیصلے ہوں گے تو سبزی، دالیں اور سب کچھ مہنگا ہوگا، ان فیصلوں سے اصل سزا پاکستان کے عوام کو مل رہی ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خطرہ ہے تختِ لاہور کی لڑائی پورے پاکستان، پورے وفاق کو لے ڈوبے گی۔نوڈیرو میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو پیغام ہے ، ہوش کے ناخن لیں، نظام کو بچائیں، جمہوریت کو بچائیں۔
ٹی بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی اور آئینی بحران کے تمام فریقوں کو دوٹوک پیغام دیا کہ آئینی بحران چلتا رہا تو نہ وہ ہوں گے، نہ شہباز ہوگا، نہ خان صاحب، نفرت کی سیاست کی قیمت سب کو بھگتنا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان میں آمریت نہیں مانتے تو اعلی عدلیہ میں کسی کی آمریت کو کیسے تسلیم کرلیں ؟
بلاول نے کہا کہ اگر بدنیتی نہیں تو لارجر بینچ کے مطالبے میں مسئلہ کیا ہے؟ ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے لارجر بینچ بنایا جائے، لارجر بینچ فیصلہ سنائے، پورا پاکستان اس کو مانے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا
یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان قادر نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس فیصلے کا پابند نہیں ہے، یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے ۔سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔



