9 مئی کے دن وطن سے والہانہ محبت کو نذرآتش کیا گیا،میں بھی کہوں تو کسی کو نہ چھوڑا جائے ، وزیراعظم شہبازشریف

اسلام آباد:ویب ڈیسک: قومی سلامتی کمیٹی نے فوجی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور اعلی عسکری قیادت نے شرکت کی۔
اجلاس کو 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے نقصانات اور کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی اجلاس میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ فوجی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا کہناتھاکہ سیاسی مقاصد کی آڑ میں فوجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ملکی دفاع اور سلامتی کے اداروں پر حملے نا قابل قبول ہیں۔
اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ سیاسی مقاصد کیلئے اداروں پر حملہ افسوسناک ہے، قومی حمیت کے حامل جناح ہائوس کو آگ لگائی گئی، 75 سال میں جو دشمن نہ کر سکا وہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنان نے کیا۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے پرتشدد واقعات پر تحمل کا مظاہرہ کیا جو قابل ستائش ہے، پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ تمام شرپسندوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات بنائیں گے انہوں نے کہا میں بھی کہوں تب بھی کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ بھی ہوا ملکی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، 9 مئی کے واقعات سے ہمارے سرشرم سے جھک گئے، تمام طبقات نے ان واقعات پر غم و غصے کا اظہار کیا، اس دن وطن سے والہانہ محبت کو نذرآتش کیا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ازلی دشمن جو نہ کرسکا، وہ 9 مئی کو کیا گیا، حکومت اورقوم اپنے مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکرتی ہے، اس طرح کا دلخراش منظر کبھی کسی پاکستانی نہ دیکھا ہوگا، میں بھی کہوں تب بھی کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے، منصوبہ بندی کرنے والے، بلوائیوں کو اکسانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام شرپسندوں کو گرفتارکر کے ان کے خلاف مقدمات بنائیں گے، ایسے انتظامات کئے جائیں کہ رہتی دنیا تک ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
قبل ازیں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور جلا گھیرا ئوکیا تھا اور مختلف شہروں میں فوجی تنصیبات کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔




