چیف جسٹس بمقابلہ نوازشریف ،بندیال بیک فٹ پر چلے جائیں گے؟

جس طرح حالات بدلے ہیں اور بدل رہے ہیں بندیال کو بھی بدلنا پڑے گا
چیف جسٹس کا بنچ ٹو ٹ کر محدود ہورہا ہے جبکہ نوازشریف کی بیٹھک میں اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی تعداد بڑھ رہی ہے
سنئیر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کے چہرے سے نقاب اٹھایا وہیں بلاول کے بائونسرز نے بھی انہیں بیک فٹ پر دھکیلا
چیف جسٹس بندیال نے ملک میں عدالت سجائی تو نواز شریف نے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کے لئے دبئی میں بیٹھک سجالی
چیف جسٹس کو صبح صبح ایک اور جھٹکا ، جسٹس منصور علی شاہ کی کیس سننے سے معذرت بنچ پھر ٹوٹ گیا،9 رکنی بنچ پھر چھ رکنی رہ گیا
بندیال کی جانب سے منگل تک سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے حوالے سے فیصلہ دینے کے اعلان سے معاملہ گرم ہو گیا تھا
چیف جسٹس کیلئے بڑی پریشانی ہے کہ جو ممالک پاکستان کو اس بحرانی کیفیت سے نکال سکتے ہیں وہ نوازشریف کو خصوصی پروٹوکول دے رہے ہیں
وہ پراجیکٹ عمران خان کلوز ہونے کا بروقت انداز ہ نہ کر سکے اور نو مئی کے فورا بعد دس مئی کا بلنڈر کر بیٹھے اور اب معاملات ان سے سنبھل نہیں رہے

اسلام آباد( تجزیہ :محمد رضوان ملک) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے حوالے سے عدالت جہاںایک اہم کیس کی سربراہی کر رہی ہے وہیں آج دبئی میں پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے بھی متوقع ہیں۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ، سابق صدر آصف علی زرداری ، مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نوازشریف ، وزیر خارجہ بلاول بھٹوزردار ی اور سب سے بڑھ کر آرمی چیف سید عاصم منیر بھی اس وقت دبئی میں ہیں جس سے معاملات مزید گرم ہوگئے ہیں اور لگتا ہے کہ چیف جسٹس اور ان کے ہم خیال ججوں کے حوالے سے فیصلہ کی گھڑی آن پہنچی ہے۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت جب ریمارکس دئیے کہ دلائل مختصر رکھیں کیونکہ عدالت منگل تک اس کیس کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے اس کے بعد معاملات گرم ہو گئے ہیں ۔ادھر چیف جسٹس نے عدالت سجائی ہے تو ادھر دبئی میں ملک کے بڑوں نے اہم فیصلوں کے لئے بیٹھک سجالی ہے۔
چیف جسٹس کو صبح صبح ایک اور جھٹکا اس وقت لگا جب جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل کی جانب سے اعتراض آنے کے بعد خود کو کیس سے الگ کر لیا اور اس طرح پھر بنچ ٹوٹ گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ مخصوص ججز سے مخصوص فیصلے لینے والے چیف جسٹس نے جب بھی تین رکنی ساتھی ہم خیال ججوں سے بڑا بنچ بنایا انہیں منہ کی کھانی پڑی ۔
جہاں ساتھی سنئیر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کے چہرے سے نقاب اٹھایا وہیں بلاول کے بائونسرز نے بھی انہیں بیک فٹ پر دھکیلا۔
چیف جسٹس جو ہم خیال ججز کے علاوہ بنچ بنانے کی غلطی نہیں کرتے اس بار انہوں نے قاضی فائز عیسیٰ اور طارق مسعود کو اس اہم کیس میں ٹریپ کرنے کی کوشش کی لیکن اپنی ہی عزت تار تار کر بیٹھے ۔
جسٹس قاضی فائزعیسی اور جسٹس طارق مسعود نے پریکٹس اینڈ پروسیجربل کا فیصلہ آنے تک چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں بیٹھنے سے معذرت کر لی تھی اور ایک بار پھر چیف جسٹس کی جانب سے ادارے کو ون میں شو کے طور پر چلانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
اس طرح چیف جسٹس نے ہم خیال ججوں سے ہٹ کر بنچ بنانے کا جو رسک لیا تھا اور خاص طور پر قاضی کو جو سرپرائز دینے کا رسک لیا تھا وہ ان کے گلے پڑھ گیا۔ قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس کو اس سے بڑا سرپرائز دے گئے ۔چیف جسٹس کا خیال تھا کہ قاضی فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے حوالے سے قاضی فائز فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیں گے ۔
قاضی فائز عیسیٰ کے بعد قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو نے بھی چیف جسٹس کو ٹف ٹائم دیتے ہوئے ان پر بائونسر پھینک دیا کہ وہ قانون کی بالادستی قائم کریں یا ادارے کو تالا لگادیں۔جس پر انہیں بیک فٹ پر جانا پڑا۔وزیر دفاع خواجہ آصف کی توپوں کا رخ تو پہلے ہی چیف جسٹس کی طرف تھا۔
چیف جسٹس کا بنچ ٹو ٹ کر محدود ہورہا ہے جبکہ نوازشریف کی بیٹھک میں اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔
نوازشریف کا پلڑا اس حوالے سے بھاری ہے کہ انہیں دبئی میں برادر اسلامی ممالک کے اہم رہنمائوں کی حمایت حاصل ہے اور انہیں خصوصی پروٹوکول دیا جارہا ہے۔ پاکستان کے اندر اور باہر سب جانتے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ بحرانی کیفیت سے وہی ممالک نکال سکتے ہیں جو نوازشریف کو خصوصی پروٹوکول دے رہے ہیں ۔یہ چیز بھی بندیال کو بیک فٹ پر دھکیل رہی ہے۔ تاہم محفوظ راستے کے لئے ان کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
جس طرح حالات بدلے ہیں اور بدل رہے ہیں بندیال کو بھی بدلنا پڑے گا ۔لیکن ان کے لئے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ پراجیکٹ عمران خان کلوز ہونے کا بروقت انداز ہ نہ کر سکے اور نو مئی کے فورا بعد دس مئی کا بلنڈر کر بیٹھے اور اب معاملات ان سے سنبھل نہیں رہے۔ ان کو جب پراجیکٹ عمران خان کلوز ہونے کا درست ادراک ہواتو وہ واپسی کا راستہ کھو چکے تھے۔امید ہے کہ انہیں تھوڑی سے سپیس دی جائے تو وہ بآسانی واپسی کیلئے تیار ہو جائیں گے۔