
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی جماعت کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی اور ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ حکومت میں اہلیت نہیں کہ وہ کشمیری عوام کو حقوق دلواسکے۔‘
اسکردو میں پریس کانفرنس کے دوران مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں دنیا میں جہاں بھی جاؤں گا کشمیر کاز پر آواز بلند کروں گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’حکومت میں اہلیت نہیں کہ وہ کشمیری عوام کو حقوق دلواسکے‘۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے کس منہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ملک کے آئین اور 18ویں ترمیم پر حملے کر رہے تو کس طرح گلگت کے عوام کو ان کے حقوق دلواسکتے ہیں؟
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کا ایک اور وعدہ پورا نہیں ہوا، وزیراعظم نے اپنے وعدوں پر یوٹرن لیا ہے۔
چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ گجرات کے قصائی مودی سے اس کی اوقات کے مطابق ڈیل کرنا چاہیے، اگر ہمارے ہاں حقیقی جمہوری حکومت ہوتی تو آج کشمیر کی یہ صورتحال نہ ہوتی۔ بھارت کو خطے میں امن کے حوالے سے دلچسپی ہی نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ راہول گاندھی کو کشمیر جانے سے روکنا افسوسناک ہے، مودی کے وزیراعظم بننے پر ہماری خارجہ پالیسی میں تبدیلی آنی چاہیے تھی مگر ہم نے 5 سال انتظار کیا۔ ماضی میں جب مودی منتخب ہوا توہماری بھارت کیساتھ ویسی ہی خارجہ پالیسی رہی جیسی دیگر بھارتی وزرائے اعظم کیساتھ تھی، مودی کے منتخب ہونے پرہمیں پتا ہونا چاہیے تھا گجرات کا قصائی وزیراعظم بن رہا ہے، پاکستان نے اپنے دفترخارجہ کو کمزور کر لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان جو وعدے بھی گلگت بلتستان کےعوام سے کر رہا ہے وہ پورے نہیں ہوں گے، جو وعدہ بھی خان نے کیا اس پریوٹرن لیا۔ صرف پیپلزپارٹی وفاقی جماعت ہے جوپورے ملک کی جماعت ہے۔ مریم نواز اور فریال تالپور کی گرفتاری سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اس وقت دورہ گلگلت بلتستان پر موجود ہیں جہاں وہ گلگت بلتستان کی قیادت سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ ساتھ جلسے کرنے میں بھی مصروف ہیں۔
گزشتہ روز اپنے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زردار نے کہا تھا کہ ’اگر ہمیں جنگ لڑنی پڑی تو لڑیں گے، خون بہانا پڑے تو بہائیں
گے، لیکن اپینی شہ رگ کو کٹنے نہیں دیں گے اور نہ ہی کشمیر پر سودے بازی کرنے دیں گے‘۔



