گلگت بلتستان میں ہونے والی تعمیرات میں مقامی تہذیب و تمدن اور کلچر کو یقینی بنانے کے حوالے سے اجلاس

اجلاس وزیراعظم اور وزیر اعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ کی خصوصی ہدایات پر طلب کیا گیا ہے ، مقصد گلگت بلتستان کے قدرتی حسن، تہذیب وتمدن اور کلچر کو نقصان سے بچانا ہے،سیکرٹری امور کشمیر


اسلام آباد: گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی مقامی سیاحت کے پس منظر میں ہوٹلز، ریسٹورننس اور دیگر رہائشی و کمرشل عمارات کی تعمیر ات میں مقامی تہذیب وتمدن بلڈنگ کوڈذ اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اجلاس وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کی صدارت سیکریٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان ظہور احمد نے کی ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی، سیکرٹری سیاحت گلگت بلتستان، ایڈیشنل سیکرٹری گلگت بلتستان کے علاوہ گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔
اس موقع پر سیکرٹری امور کشمیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس اجلاس کا انعقاد وزیراعظم اور وزیر اعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ کی خصوصی ہدایات پر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال مشاہدے میں آئی ہے کہ گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی سیاحت کے ساتھ ساتھ وہاں پر بے ہنگم تعمیرات کا ایک سلسلہ جاری ہے جس سے گلگت بلتستان کا قدرتی حسن، تہذیب وتمدن اور کلچر کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اس ضمن میں بروقت اقدامات نہ اٹھائے تو پھر ہمارے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچے گا ۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے اس عظیم اثاثے کو محفوظ بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں ،۔
سیکرٹری سیاحت گلگت بلتستان نے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ گلگت بلتستان میں ہر سال سیاحوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد اگلے سال پندرہ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے کے ماتحت ایک ذیلی ادارہ ڈیپارٹمنٹ آف ٹورازم سروس نئے ریسٹورینٹ اور ہوٹلوں کی تعمیر میں تھیم، یکسانیت، بلڈنگ کوڈز اور کلچر کے مطابق تعمیرات کے نفاذکے لیے سختی سے عمل پیرا ہے، اجلاس میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت پہلے مرحلے میں سرکاری عمارات کی تعمیر میں مقامی تہذیب و تمدن اور بلڈنگ کوڈز کو یقینی بنائے گی اور ساتھ ہی ساتھ پرانی عمارتوں کو مقامی تہذیب و تمدن کے حوالے سے ڈھالنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی طے کی جائے گی ۔
۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کی تعمیرات کے حوالے سے زوننگ کرنے پر اتفاق کیا گیا اوریہ فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں گلگت اور سکردو کے علاوہ باقی آٹھ اضلاع کے بھی ماسٹر پلان تیار کیے جائیں ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے انواریمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کو مزید متحرک کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کے دریاوں اور آبی اثاثوں کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔ اجلاس میں یہ امر بھی زیر غور آیا کہ مجوزہ تعمیرات میں تعمیراتی اخراجات بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے جس کے حل کے لیے اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
اجلاس کے آخر میں سیکرٹری امور کشمیر نے ایک بار پھر زور دیا کہ گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جس کے تحفظ ہم سب پر ضروری ہے اور اس ضمن میں گلگت بلتستان حکومت کا کردار سب سے کلیدی ہے جس کو وہ احسن انداز سے سرانجام دینے کی وہ بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔