
ڈاکٹر عبدالودودقریشی ( ستارہ امتیاز )
کہاں ہیں معاشرے کی اصلاح کیلئے ایمانداری سے عربی لفظ سیاست کو اپنانے والے جو شام کو پیوند لگے کپڑوں میں تھڑوں پر مل بیٹھ کر ایک دوسرے سے تارخ اور علم کی بات کرتے تھے ۔۔۔
وہ استاد کدھر گئے جنکے شاگر انکو دور سے دیکھتے ہی گریبان کے بٹن بند کرتے تھے احترام میں ۔ خوف سے نہیں ۔۔۔
کہاں گئے طبیب جنکی باتوں سے ہی مریض شفا یاب ہو جاتے اور طبیب کسی فیس کے بغیر وقت ملتے ہی انکے گھر مزاج پرسی کے لئے خود جاتے ۔۔۔
کہاں گئے وہ شاعر و ادیب جو غربت میں حق بات کرتے اور حکمران ان سے ڈرتے تھے ۔۔
کدھر گئے وہ با غیرت مرد جو محلے کی ماوں بہنوں کو دیکھتے ہی نظریں جھکا لیتے بوڑھوں کے پاس بوجھ دیکھ کر انکے گھر تک چھوڑ آتے ۔۔
کدھر ہیں وہ خطیب جو مسجد میں متنازعہ بات نہ کرتے نہ کرنے دیتے سب مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتے تھے ۔۔
کدھر ہے وہ معاشرہ جو نشوئی ، دھوکے بازوں ،راشیوں اور بد معاش سے قطع تعلق رکھتا تھا ۔۔
کہاں گئے وہ استاد جو سر پر ٹوپی رکھ کر طالب علموں کو مفت گھر پڑھانے جاتے ان پر کوئی برا وقت آتا تو سب طالب علم انکے والدین ان کیلئے کھڑے ہوتے ۔۔
کہاں گئے وہ آجر جو اجیر کو احترام دیتے ۔۔
کہاں گیا وہ معاشرہ جو کارپوریشن / کمیٹی کے صفائی کرنے کا خیال رکھتا اور وہ سورج طلوع سے غروب تک محلے میں ہی رہتا کوئی گلی نالی گندی نہ ہونے دیتا ۔۔۔ اس کو 1970 کے بعد کس کی نظر کھا گئی ۔۔ اخلاص سے یہ پھر ممکن اور دنیا / یورپ کے کئی معاشروں میں ایسا اب بھی ہے




