تاحیات نااہلی انتخابات میں حصہ لینے اور عوام کے ووٹ ڈالنے کے بنیادی حق سے متصادم ہیں اسے واپس لیتے ہیں
سپریم کورٹ نے نااہلی کو تاحیات کر کے آئین میں تبدیلی اور اسے ری رائٹ کرنے کی کوشش کی جس کا اسے اختیار ہی نہیں تھا
نوازشریف کے چوتھی بار ملک کا وزیراعظم بننے کی راہ ہموار، فیصلے سے نوازشریف کے علاوہ جہانگیر ترین کو بھی فوری ریلیف ملا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کافیصلہ سناتے ہوئے اس کالعدم قراردیا ہے ، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ماضی کے اپنے فیصلے کو آئین سے انحراف اور اسے دوبارہ تحریر کرنا قراردیا ہے۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے چھ ایک سے یہ فیصلہ سنایا، جسٹس یحیی آفریدی نے تاحیات نااہلی کے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ۔
سپریم کورٹ نے نااہلی کی مد ت کے حوالے سے تعین آمدہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے میاں محمد نوازشریف کے چوتھی بار ملک کا وزیراعظم بننے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ نوازشریف کے علاوہ فوری طور پر اس کا فائدہ جہانگیر ترین کو بھی پہنچا ہے۔
سپریم کورٹ کے چھ ججز نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عدالت کے پاس آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں ہے، الیکشن ایکٹ 62 (1) ایف میں نااہلی کی مدت پانچ سال ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کا قانون فیلڈ میں موجود ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اقامہ کیس میں تاحیات نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی بھی ختم ہوگئی ہے اس کے علاوہ جہانگیر ترین سمیت متعدد ان سیاسی رہنمائوں کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت ہوگی جن کی سزا کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔
اکثریتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دیتی ہے، عدالتی ڈیکلریشن کے ذریعے 62 ون ایف کی تشریح اس کودوبارہ لکھنے کے مترادف ہے اور ڈیکلیریشن دینے کے حوالے سے کوئی قانونی طریقہ کارموجود نہیں ہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے اپنے اختلافی نوٹ میں انہوں نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے کو درست قرار دیا اور لکھا کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی نااہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقراررہنے تک رہے گی۔
انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ آئین میں 62ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی نہیں ہے، نااہلی اس وقت تک ہے جب تک عدالت کاڈیکلریشن موجود ہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے لکھا کہ اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ محض ذمہ داریوں یا سماجی حقوق کی بنیاد پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق آئین میں اضافے کے مترادف ہے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت تاحیات کرکے آئین میں اضافہ کیا۔
اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس یحیی آفریدی نے لکھا کہ نااہلی تاحیات مقرر کرنے کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، الیکشن ایکٹ کی شق 232 کی زیلی شق دو کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال کرنے کی قانون سازی درست ہے۔ سمیع اللہ بلوچ کیس میں نااہلی نہ تاحیات ہے نہ ہی مستقل ہے اور نہ ہی مختصر، سمیع اللہ بلوچ کیس میں طے کردہ اصول درست ہے۔
۔۔۔۔
تاحیات نااہلی ختم، عوامی نمائندوں کا احتساب عوام ہی کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ




