پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کو ن لیگ میں سلجھے ہوئے لوگ نظر آنے لگے
یہ ضروری نہیں کہ کوئی ن لیگ یا پی پی کا ووٹر ہو اور سارے ہی چور ہوں، جسٹس بابر ستار کی بھی تعریفیں
بانی پی ٹی آئی اصولی لوگوںکو پسند کرتے ہیں ، ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ بابر ستار ہماری حکومت میں ہماری مرضی کے بغیر ہائیکورٹ کے جج بنتے
شاندانہ گلزار کا یہ جملہ از خود کئی سوال چھوڑ گیا ہے،انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری ان کی حکومت کی مرضی سے ہوتی رہی ہے

اسلام آباد(رپورٹ:محمد رضوا ن ملک ) تحریک انصاف جو حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے حق میں نہیں ہے۔نہ صرف حکومت بلکہ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ بھی وہ کسی صورت مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں،یا درہے کہ اس سے قبل وہ کسی صورت مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی ف کے ساتھ بھی ہاتھ ملانے کے لئے تیار نہ تھے ۔ لیکن اب لگتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے ساتھ ساتھ ان کے لئے مسلم لیگ ن کے حوالے سے بھی نرم گوچہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے ایک بیان میں کیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کا کہناتھا کہ ن لیگ میں بھی سلجھے ہوئے لوگ ہیں مگر وہ لیڈرشپ میں نظر نہیں آئیں گے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ جسٹس بابر ستار کو پچھلے 25 سال سے جانتی ہوں۔ اخباروں میں اور فیس بک پر وہ ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف لکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں وہ ن لیگ کے ووٹر تھے، یہ ضروری نہیں کہ کوئی ن لیگ یا پی پی کا ووٹر ہو اور سارے ہی چور ہوں۔شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ ن لیگ میں بھی سلجھے ہوئے لوگ ہیں مگر وہ لیڈرشپ میں نظر نہیں آئیں گے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جسٹس بابر ستار نے مجھے اور شہریار آفریدی کو بطور جسٹس آف دی ہائیکورٹ ریلیف دیا، انہوں نے بطور پرسن بابر ستار ریلیف نہیں دیا۔ شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ڈیوٹی ہے، انہوں نے حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ اصولی لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ بابر ستار ہماری حکومت میں ہماری مرضی کے بغیر ہائیکورٹ کے جج بنتے۔
شاندانہ گلزار کا یہ جملہ کی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ بابر ستار ہماری حکومت میں ہماری مرضی کے بغیر ہائیکورٹ کے جج بنتے۔اپنے پیچھے بڑے سوال چھوڑ گیا ہے ۔دوسرے الفاظ میں انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری ان کی حکومت کی مرضی سے ہوتی رہی ہے



