دو تہائی اکثریت کا دعویٰ کرنے والے اتحادیوں کے ساتھ بمشکل سادہ اکثریت حاصل کر سکے
مودی وزارت عظمیٰ سے مستعفیٰ 8 جون کو سادہ اکثریت کے ساتھ تیسری بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے

دہلی: بھارت کے انتخابی نتائج نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور دوتہائی اکثریت کا دعویٰ کرنے والے مودی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بمشکل سادہ اکثریت ہی حاصل کر پائے ہیں ۔مودی سادہ اکثریت کے ساتھ آٹھ جون کو تیسری بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے جارہے ہیں۔
بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق بی جے پی کی سربراہی میں 24 رکنی اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے 292 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے اور اس میں سے بی جے پی کی 240 سیٹیں ہیں۔کانگریس کی سربراہی میں بنے اپوزیشن اتحاد انڈیا نے 234 سیٹیں حاصل کی ہیں اور کانگریس 99 نشستوں پر کامیاب ٹھہری ہے۔حکومتی اتحاد کو 534 کے ایوان میں 272 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل ہے اور مودی نے صدر سے لوک سبھا تحلیل کرنے اور حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔
مودی نے بطور وزیراعظم استعفی دیدیا، 8 جون کو تیسری مرتبہ وزارت عظمی کا حلف اٹھائیں گے۔تاہم اس سب میں اپوزیشن اتحاد کی جماعت شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے حیران کن دعوی کیا ہے۔گزشتہ شب پارٹی کی کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے دعوی کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سادہ اکثریت چوک گئی ہے اور اپوزیشن اپنا وزیراعظم لائے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور دیگر اتحادیوں کی بہار کے وزیراعلی نتیش کمار اور تیلگو دیشم پارٹی کے سربراہ چندرابابو نائیڈو کے ساتھ اتحاد میں شمولیت کی بات چیت جاری ہے، یہ دونوں رہنما بی جے پی سے ناراض ہیں۔خیال رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار اہمیت اختیار کرگئے ہیں اور ان کو ملائے بغیر حکومت بنانا مشکل ہوگا۔
نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں شامل بی جے پی کی 240، تیلگو دیشم پارٹی کی 16، نتیش کمار کی جنتا دل (یونائیٹڈ) 12، شیو سینا (شندے گروپ) 7 اور لوک جان شکتی پارٹی کی 5 نشستیں ہیں۔
دوسری طرف دہلی میں این ڈی اے کا اجلاس ہوا جس میں چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار نے بھی شرکت کی اور اتحاد نے نریندر مودی کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کردیا۔
حکمراں بی جے پی توقع کے برعکس صرف 240 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جو 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی جیتی گئی سیٹوں سے تقریبا 60 کم ہیں۔ دوسری جانب کانگریس کو 99 سیٹیں ملی ہیں جو کہ سنہ 2019 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریبا دو گنا ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے غیر متوقع نتائج کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہیں گی لیکن انھیں ہمیشہ یہ خطرہ رہے گا کہ حزب اختلاف حکمراں اتحاد سے ناراض جماعتوں کو اپنی جانب راغب کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔بی جے پی کے لیے کمزور مینڈیٹ کا مطلب یہ ہو گا کہ پچھلی حکومت کے برعکس پارٹی کو ممکنہ طور پر اپنے نامکمل ایجنڈے کو جاری رکھنے کے لیے علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔
آنے والے دنوں میں جو علاقائی پارٹیاں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ان میں کانگریس کی حلیف سماج وادی پارٹی ہے، جو اتر پردیش کی 80 نشستوں میں سے 37 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ ٹی ایم سی جو بنگال میں برسر اقتدار ہے نے 20 نشستیں حاصل کی ہیں اور گذشتہ انتخابات کے مطابق میں ان کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب مودی کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ نے بہار میں 12 اور ٹی ڈی پی نے آندھرا پردیش میں 16 نشستیں حاصل کی ہیں۔
بی جے پی نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، کشمیر میں دفعہ 370 کو ہٹانے اور تین طلاق روکنے کا قانون متعارف کرانے جیسے اپنے وعدوں کو پورا کیا ہے۔ لیکن نئی حکومت کے لیے نامکمل وعدے جیسا کہ ون نیشن ون الیکشن اور یکساں سول کوڈ (جس کے تحت اقلیتوں کے شادی اور وراثت کے قوانین کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا) کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔
ون نیشن ون الیکشن وعدے کے تحت بی جے پی پارلیمانی اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی وقت میں کروانا چاہتی ہے۔ بی جے پی ماضی میں کہہ چکی ہے کہ اس سے حکومتوں کو بار بار انتخابات کرانے کے بجائے حکمرانی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی۔تاہم حزب اختلاف نے یہ کہتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے کہ اس سے حکمران جماعت کو غیر مناسب فائدہ پہنچے گا۔
ناقدین اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ بی جے پی نے سرکاری اداروں کو کمزور کیا ہے، جس کے تناظر میں شہریوں کے لیے حکومت کی غفلت کو روکنے کے لیے ووٹ ہی واحد ذریعہ ہے۔ناقدین بی جے پی کی پالیسیوں کو اکثر فرقہ وارانہ قرار دیتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اس سے انڈیا کی وفاقیت کمزور ہو رہی ہے۔
ان انتخابات میں علاقائی پارٹیوں کو اہمیت حاصل ہونے کی وجہ سے مودی اور ان کے اہم ساتھی امت شاہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مبینہ طور پر مرکز میں حکومتی طاقت کے عمل پر اہم اثر پڑے گا (یعنی پہلے جیسا تاثر تھا کہ طاقت کا مرکز مودی اور امت شاہ ہیں اور وہی سارے فیصلے لیتے ہیں، اب چونکہ مودی دوسری علاقائی جماعتوں کے ساتھ ملک کر حکومت بنائیں گے لہذا انھیں ان پارٹیوں کی بھی سننا پڑے گی۔ان انتخابی اعداد و شمار کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت ایک مرکزی جماعت کی بجائے اتحادی جماعتوں پر مبنی سیاست کی آئینہ دار ہو گی جو انڈیا میں سنہ 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں عام تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مخلوط حکومتیں مسابقتی مفادات کی کھینچا تانی کی وجہ سے عوام کے حقوق کے لیے بہتر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بی جے پی کی زیرقیادت گذشتہ این ڈی اے حکومت کے دوران اس کی کئی اہم اتحادی جماعتوں کے لیے اس کا ہندوتوا کا نظریہ ناقابل قبول تھا، جس کی وجہ سے اسے موڈیریٹ سیاست کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
بھارتی انتخابات :مودی کی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکل گئی


