ٹرمپ کو ہومیوپیتھک سزا سر پر لٹکتی نااہلی کی تلوار ہٹ گئی

ش منی کیس میں ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے، جرم برقرار
مستقبل کے امریکی صدر کو جیل میں‌قید کیا جائے گا نہ کوئی جرمانہ ہوگا
عدالت کا پیسے دے کر جرم چھپانے کا جرم ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم

نیویارک:20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ہیں اور ان کے سر پر لٹکتی نااہلی کی تلوار ہٹ گئی ہے. شی منی کیس میں‌عدالت نے ہومیوپیتھک سزا دیتے ہوئے قراردیا ہے کہ ٹرمپ کو جیل میں‌قید کیا جائے گا نہ کوئی جرمانہ ہوگا.تاہم عدالت نے پیسے دے کر جرم چھپانے کا جرم ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم دی ہے. اس طرح ش منی کیس میں ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے لیکن ان کا جرم برقراررہے گا.
نیویارک کی فوجداری عدالت میں ٹرمپ کو سزائے جانے کے لیے سماعت ہوئی جس میں جج نے کہا کہ ٹرمپ کو جیل میں قید نہیں کیا جائے گا اور نہ ان پر کوئی جرمانہ ہوگا۔عدالت نے ٹرمپ کی رہائی کا فیصلہ دیتے ہوئے پیسے دے کر چھپانے کا جرم ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے۔فحش اداکارہ رقم ادائیگی کیس میں ٹرمپ پر الزامات درست قرار، امریکی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر کو سزا
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں امریکی عدالت نے فحش اداکارہ کو رقم کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ٹرمپ پر عائد الزامات درست قرار دیتے ہوئے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی سے متعلق 34 الزامات عائد کیے گئے تھے، جیوری نے تمام 34 الزامات کو درست قرار دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ ان کے اسٹارمی ڈینئلز کے ساتھ جنسی تعلقات تھے اور انہیں چھپانے کے لیے 2016 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اسٹارمی ڈینئلز کو رقم دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت گئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو سزائے سنائے جانے کے لیے کیس کی مزید سماعت ابتدائی طور پر 11 جولائی 2024 کو ہونی تھی جو متعدد مرتبہ ملتوی ہوئی۔
ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے.وہ بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے.