کرنل (ر) مسرت نعیم

78 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ جو آٹھ سال پہلے امریکہ کے پنتالیسویں صدر منتخب ہوئے تھے- اسی سپر پاور کے سنتالیسویں صدر کا حلف اٹھا چکے ہیں- اپنی حلف برداری کے فورا بعد صدر ٹرمپ نے اپنے بیش رو سابق صدر جو بائیڈن کے 78 حکم نامے یک جنبش قلم منسوخ کر دئے اور درجنوں نئے حکم نامے جاری کر دئے – اپنی حلف برداری کے بعد خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کو عظیم بنانے اور سب سے پہلے امریکہ کے نعرے کو اپنی مستقبل کی حکمت عملی کا محور قرار دیا اور ٹیکسوں میں کمی اور غربت دور کرنے کا عزم کیا-
صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں یرغمالیوں کی رہائی کو خوش آئند قرار دے دیا اور غزہ کے "خوبصورت ساحل سمندر اور موسموں کاذکر کیا اور اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک مضبوط اتحاد اور مشترکہ اقدامات کی بات کی ہے-اسرائیلی خوش ہیں کہ امریکہ کا یہ اتحاد بظاہر اسرائیل کے ساتھ ہی ہوگا جو اس کا بغل بچہ ہے اور یقینا حماس اور فلسطینیوں کے خلاف ہی ہوگا جن کی سرزمین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے- ظاہر ہے ٹرمپ حکومت علاقے میں امن اور ترقی کے لئے حماس کے اثر کو زائل کرنا چاہے گی- جبکہ خطے میں اسرائیلی اثرورسوخ کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اپنے وسائل بروئے کار لائے گی- صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں بائیبل کے حوالے بھی دئے جسے یہودی خیرسگالی اور اتحاد کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں- جبکہ کچھ یہودی حلقوں ان پر اپنے محتاط تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں-
صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ "ہم اپنی کامیابی کو نہ صرف ان جنگوں سے ناپیں گے جو ہم جیتتے ہیں بلکہ ان جنگوں سے ناپیں گے جنہیں ہم ختم کرتے ہیں، اور شاید سب سے اہم ان جنگوں کا ختم کرناہے جو ہم کبھی شروع نہیں کیں۔”
یہ بیانات ایسی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان خطوں میں تنازعات کو کم کرنے پر مبنی ہو سکتی ہیں جہاں مسلمانوں اور فلسطینیوں کی بڑی آبادی موجود ہے، اور یہ امن و استحکام کے وسیع تر خواب سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر ٹرمپ یوکرائن کی جنگ بند کروانے اور غزہ میں امن قائم قائم کروا لیتے ہیں تو یہ انکا ناقابل فراموش کارنامہ ہوگا- اور اس کے مثبت اثرات پوری دنیا اور بالخصوص تیسری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے- اور تیل اور باقی اجناس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا- روس کی طرف سے خیر سگالی کے طور پر یورپ کے لئے گیس کی بندش ختم ہو سکتی ہے- جس سے یہاں ایندھن کی قلت کم ہوگی-
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دو جنسوں کے واضح تصور اور اسقاط حمل کی مخالفت کا نظریہ پر دوہرایا- جو اسلامی تعلیمات سے قدرے مطابقت رکھتا ہے۔اگرچہ اسلام مخصوص حالات میں رحم اور ہمدردی کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جبکہ ٹرمپ کا نقطہ نظر عیسائیت کی تعلیمات اور امریکی کنزرویٹیو اقدار پر مبنی ہے-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک بڑا چیلنج (BRICS) ممالک کی جانب سے ڈالر کے خاتمے کے اقدامات کے اقدام کو روکنا ہے۔ وہ حلف اٹھانے سے پہلے ہی برکس ممالک برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، اور نئے شامل ہونے والے ممالک جیسے ایران، مصر، ایتھوپیا، اور متحدہ عرب امارات کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر وہ بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی کو اپنانے کی کوشش کریں گےتو ان کی درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا –
ٹرمپ نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ امریکی ڈالر کو عالمی لین دین میں برقرار رکھیں ورنہ انہیں سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں امریکی مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرنا بھی شامل ہے۔ جس طرح ہمارے خان صاحب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران جاپان اور جرمنی کو پڑوسی قرار دیا تھا اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے غلطی سے اسپین کو برکس کا ممبر سمجھ کر دھمکی لگادی دی-اور جب پتا لگا کہ سپین برکس میں شامل نہیں تو میں معذرت کرنی پڑی- یہ پیش رفت امریکی ڈالر کے عالمی تجارت میں غلبے کو برقرار رکھنے پر امریکی انتظامیہ کی توجہ اور ڈی ڈالرائزیشن کی کوششوں کے خلاف ٹیرف کے استعمال کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔ دوسری طرف برکس ممالک بالخصوص امریکہ کی ڈالر کے ذریعے بالادستی کو ختم کرنے کے لئے پر عزم ہیں- نریندر مودی نے حال ہی میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ ڈالر میں ٹریڈ ختم کر کے رہیں گے- اگر ایسا ہو جاتا ہے تو چینی اور بھارتی مصنوعات جس سے امریکی مارکیٹ اٹی پڑی ہیں، مہنگی ہو جائیں گی- اور پاکستان کی مصنوعات کی امریکی مارکیٹ میں رسائی کے لئے ایک گولڈن ونڈو مہیا ہوگی- جس کا فائدہ آٹھا کر موجودہ حکومت اپنا تجارتی خسارہ کم کر سکتی ہے- اب پاکستان نے اس فائدے کا موازنہ برکس میں شامل ہونے والے مفادات کےساتھ کرنا ہے-
موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں پاکستان اور امریکہ مثبت سفارتی کاری اور بقائے باہمی کے اصول کے تحت تعلقات بہتر بنا کر خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے سکتے ہیں- پاکستان امریکی تعاون سے ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ میں امریکی تعاون حاصل کر سکتا ہے اور افغان حکومت پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے-
غزہ جنگ بندی کےبعد پاکستان اسلامی ممالک کے تعاون سے اس علاقہ کی تعمیر نو میں ایک لیڈنگ رول ادا کر سکتا ہے-
صدر ٹرمپ کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے اوپر بھی سپر پاور کی حکومت ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی- اگر امریکہ چاہے تو امن اور آتشی کا پیامبر بن کر پوری دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے- بصورت دیگر ہر فرعون کا انجام تباہی وبربادی ہے-


