صدر کے دستخطوں کے بعد قانون بن جائے گا،اپوزیشن اور صحافیوں کا شدید احتجاج اور واک آئوٹ
اس متنازع ترمیمی ایکٹ کے خلاف منگل کو صحافتی تنظیموںکی جانب سے ملک بھر میں مظاہرے کئے گئے

اسلام آباد :قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں متنازع پیکا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔صدر کے دستخطوں کے بعد اب یہ قانون بن جائے گا اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی اور احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔ صحافیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پریس گیلری سے واک آئوٹ کیا۔ منگل کو سینیٹ اجلاس کی صدارت ڈپٹی چئیرمین سیدال خسن نے کی، اجلاس میں متنازع پیکا ترمیمی بل پیش کیا گیا۔جس پر صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آٹ کردیا، سینیٹ میں بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا اور ایوان میں شور شرابہ بھی کیا۔اپوزیشن اراکین نے بل کا کاپیاں پھاڑ پھینکیں، قائد حزب اختلاف اور پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ ہم اس بل کی حمایت نہیں کررہے، وزیر کی باتیں درست ہیں کہ جھوٹ پرمبنی خبر پھیلانے کو کوئی سپورٹ نہیں کرتا، کوئی شراکت دار اس میں شامل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بل کا طریقہ کار درست نہیں، جو کیسز ہیں اس کے لیے نہ ادارہ بنا، نہ جج ہیں، نہ وکیل۔
جے یو آئی کے کامران مرتضی نے کہا کہ کہ پیکا ایکٹ پر میری ترامیم تھیں جنہیں نہ کمیٹی نے منظور کیا گیا اور نہ ہی مسترد کیا گیا، یہ قائمہ کمیٹی کی نامکمل رپورٹ ہے۔
سینیٹر فلک ناز نے کہا ہائوس کو یرغمال بنالیا گیا ہے مذاق بنا ہوا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان نے بھی پیکا ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔شدید احتجاج اور شور شرابہ کرنے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے فلک ناز چترالی کو ایوان سے نکالنے کی تنبیہ بھی کی۔
قبل ازیںپیر کو سینٹ کی مجلس قائمہ نے پندرہ منٹ میں اس بل کی منظوری دے دی تھی۔
قومی اسمبلی کے بعد سینٹ سے بھی متنازع پیکا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور


