تمام یرغمالی رہا نہ ہوئے تو غزہ جنگ بندی معاہدہ منسوخ کر دوں گا، ٹرمپ کی دھمکی


فلسطینیوں کو "مستقبل کے رئیل اسٹیٹ منصوبے کے تحت غزہ واپسی کا حق حاصل نہیں ہوگا
اردن اور مصر فلسطینی پناہ گزینوں کو نہیں لیتے تو ان کی امداد بند کردیں گے امید ہے کہ اردن مان جائے گا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تمام یرغمالی ہفتے تک رہا نہ ہوئے تو غزہ جنگ بندی معاہدے کی منسوخی کا اعلان کردوں گا۔واشنگٹن میں مختلف ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہفتے کی دوپہر تک غزہ میں موجود تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ اسرائیل حماس جنگ بندی معاہدہ ختم کردیں گے جس سے جنگ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر اردن اور مصر فلسطینی پناہ گزینوں کو نہیں لیتے تو ان کی امداد بند کردیں گے تاہم مجھے امید ہے کہ اردن مان جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو "مستقبل کے رئیل اسٹیٹ منصوبے کے تحت غزہ واپسی کا حق حاصل نہیں ہوگا۔اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سابق گورنر ایلی نوائے راب بلاگو جووچ کیلئے صدارتی معافی کا اعلان کردیا، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یرغمالیوں کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل اور المونیم پر25فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کررہے ہیں، کسی بھی ملک کو امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، امریکی برآمدات پر جو ملک ٹیرف لگائے گا تو جوابی ٹیرف لگایا جائے گا۔
امریکی صدر نے محکمہ انصاف کو پابند کرنے کے حکم نامے پردستخط کردیئے، ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں،چپس اور ادویات پر بھی ٹیکس کے حوالے سے غور کررہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینیوں کیلئے مستقل جگہ بنانے کی بات کررہا ہوں، یوکرین کے صدر سے اسی ہفتے بات کروں گا، ہفتے کو شاید اسرائیلی وزیراعظم سے بھی بات کروں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے غزہ پر امریکا کی جانب سے قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے۔ جس کا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں غزہ میں طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن دیکھتا ہوں، ہم غزہ کو ترقی دیں گے، علاقے کے لوگوں کے لیے ملازمتیں دیں گے، شہریوں کو بسائیں گے۔
ٹرمپ کے اعلان پر اقوام متحدہ اور دنیا کے کئی ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی بیدخلی کی مخالفت کی تھی اور دو ریاستی حل پر زور دیا تھا۔
واضح رہے کہ حماس نے اسرائیل کی غزہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں پر یرغمالیوں کی رہائی کا عمل روک دیا ہے۔ترجمان القسام بریگیڈ ابوعبیدہ نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ حماس قیادت نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران قابض دشمن کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔
ان خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر کیے گئے شہریوں کی واپسی میں تاخیر، مختلف علاقوں میں بمباری اور فائرنگ کے ذریعے ان کو نشانہ بنانا اور معاہدے کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنا شامل ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے اپنے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کے حقِ واپسی کو مسترد کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو نشر ہونے والے تبصروں میں کہا کہ جو فلسطینی محصور غزہ کی پٹی سے نکلیں گے انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک فلسطینیوں کو غزہ واپسی کا حق نہیں ہو گاپڑھنا جاری رکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔