مظالم کے یکتا جھوٹے داستان گو

ڈاکٹر عبدالودودقریشی ( ستارہ امتیاز )
تردا منی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
نیت کا کھوٹ، دل کا جھوٹ اور نظر کا فتور پکڑا جاتا ہے، تاریخ اور لمحاات جملوں کا ڈی این اے سامنے لے آتے ہیں، پیہم جھوٹ اور دروغ گوئی سے بے بنیاد دیومالائی تصورات تراشنے والے جوبیس کروڑ پاکستانی عوام کو بے وفوف جان کر یقین کر بیٹھے ہیں کہ انکی دیومالائی کہانیوں کو عقل کی سان پر چڑھانے والا کوئی نہی ہے ،پاکستانی سیاست دان جھوٹ کے بل بوتے پر سینٹری ، وزارت اور وزیر اعظم کے منصب پر بیٹھ کر دو ٹکے تو بنا لیتے ہیں مگر تاریخ میں رسوائی انکا مقدر ٹہرتی ہے ۔پاکستان میں جاسوس بن کر رہنے کی من گھڑت کہانیوں پر اجیت دوول مدت سے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر ( این ایس اے ) بنے بیٹھے ہیں اور انکے نقش قدم پر کئی اور بھارتی بھی چل رہے ہیں ، پاکستان سے بھاگنے والے ( ہجرت کا مقدس نام ) بھی استعمال کرنے سے نہی چونکتے وہ جو کہانیوں بیان کرتے ہیں کہ آٹھ اور چار فٹ کے کمرے ہیں کئی ہفتے رکھا گیا ( ایسا کمرہ ہٹلر دور میں بھی نہی تھا نہ اس کا کہیں وجود ہے ) کہتے ہیں سورج نہی دیکھا اندھیرا تھا اور ساتھ ہی کھانے دینے والے کی باڈی لینگوج ، چہرے کے تاثرات بھی بیان کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں مجھ سے مشورے لئے جاتے تھے عمراں خان کب تک ٹوٹ جائے گا گویا اندھرے میں انکے پاس نائٹ ویژن بھی تھی ؟؟ جس سے باڈی لینگوج اور چہرے کے تاثرات دیکھتے ہے ، ڈھٹائی میں یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ کلاس فیلو رشتہ دار اہل خانہ اور لاہوری جانتے ہیں کہ بندہ پیدائشی لکنت کا مریض تھا اور اب ذہنی لکنت کا بھی شکار ہے ، سرسبز پہاڑوں میں سفر افسانے کے دوران صحراے لق ودق کے جانوروں کی شمولیت انکا حملہ بھی عجب ہے ،مجھے افسوس تو اپنے دوست پر آتا ہے جو جھوٹ کی کہانی شروع کروا کر برطانیہ میں خود آگ کی انگیٹھی کو سلگاتے لگ جاتا ہے یا یہ حقیت بتانا جاہتا ہے کہ سب جھوٹ اور افسانہ ہے ، پی ٹی آئی ورکر کے گھروں پر چھاپے توڑ پھوڑ ، درجنوں،سینکڑوں جھوٹے مقدمات ، خواتین کی گرفتاریاں ، احتجاج کے حق سے حکومتی جبر کی پابندی قابل مذمت ہے مگر یہ دیومالی جھو ٹی کہانیاں بھی قابل قبول نہی ہیں بلکہ قابل مذمت ہیں یہ فنکار سب کی قربانی جھوٹ کی کھال اوڑ کر کھانا چاہتے ہیں ،تیتر گیلا ہونے پر بولتا ہے اڑتا اور لڑتانہیں.