رات کے وقت پیشاب آنا مثانے کا نہیں دل کا مسئلہ


پیشاب کے خوف سے کم پانی پینا بزرگوں کے لئے دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے
انسانی جسم مشین نہیں ہے کہ زیادہ استعمال سے خراب ہو جائے بلکہ جتنا استعمال ہوگا اتنا مضبوط ہوگا

اسلام آباد:آپ میں سے کون ہو گا جو رات کو بار بار پیشاب آنے سے تنگ نہیں ہوگا۔اکثر لوگ اسے مثانے کی کمزوری سمجھتے ہیں لیکن بعض طبی ماہرین کے مطابق یہ مثانے کی نہیں اصل میں دل کی کمزوری کی علامت ہے۔ ڈاکٹر عبدالنصیر کیمطابق، رات کو بار بار پیشاب آنا دراصل دل اور دماغ تک خون کے بہا ومیں رکاوٹ کی علامت ہے۔خاص طورپر بزرگ افراد رات کو بار بار پیشاب کی ضرورت کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔وہ نیند خراب ہونے کے خوف سے سونے سے پہلے پانی پینے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ پانی پینے سے پیشاب کیلئے بار بار اٹھنا پڑیگا۔لیکن یہ نہیں جانتے کہ سونے سے پہلے یا رات میں پیشاب کے بعد پانی نہ پینا صبح سویرے دل کے دورے یا فالج کا اہم سبب بن سکتا ہے۔حقیقت میں، رات کو بار بار پیشاب آنا مثانے کی خرابی نہیں بلکہ دل کی کمزوری کی علامت ہے۔
بڑھتی عمر کیساتھ دل کے افعال کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ جسم کے نچلے حصے سے خو ن کو واپس کھینچنے کے قابل نہیں رہتا۔دن کیوقت جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو خون کا بہا ونچلے حصے میں زیادہ ہوتا ہے۔اگر دل کمزور ہوتو خون کی مقدار ناکافی ہو جاتی ہے اور جسم کے نچلے حصے پر دباو بڑھ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ دن کیوقت بزرگ افراد کے نچلے حصے میں سوجن ہو جاتی ہے۔
رات کو لیٹنے کے بعد جسم کے نچلے حصے کو دبا وسے نجات ملتی ہے اور ٹشوز میں جمع پانی واپس خون میں شامل ہو جاتا ہے۔جب پانی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے تو گردے اضافی پانی کو الگ کرکے مثانے میں بھیج دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رات کے وقت بار بار پیشاب آتا ہے۔
عام طورپر سونے کے تین یا چار گھنٹے بعد پہلی بار پیشاب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسکے بعد خون میں پانی کی مقدار دوبارہ بڑھتی ہے اور ہر تین گھنٹے بعد دوبارہ پیشاب کی ضرورت پڑتی ہے۔
رات میں دو یا تین بار پیشاب کے بعد خون میں پانی کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے سانس لینے سے بھی جسم کا پانی کم ہو جاتا ہے جس سے خون گاڑھا اور چپچپا ہو جاتا ہے۔نیند کے دوران دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے خون کے گاڑھا ہونے اور بہاو کے سست ہونے کی وجہ سے تنگ شریانیں آسانی سے بند ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے بزرگ افراد کو اکثر صبح 5-6 بجے کے قریب دل کا دورہ یا فالج ہوتا ہے اور یہ حالت نیند کے دوران موت کا سبب بن سکتی ہے۔
*اہم ہدایات:*
رات کو پیشاب آنا بڑھتی عمر کی علامت ہے، مثانے کی خرابی نہیں۔
سونے سے پہلے اور رات میں پیشاب کے بعد نیم گرم پانی ضرور پئیں۔ پانی پینے سے نہ گھبرائیں، کیونکہ پانی نہ پینا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ دل کی کارکردگی بڑھانے کیلئے باقاعدگی سے ورزش کریں۔انسانی جسم مشین نہیں ہے کہ زیادہ استعمال سے خراب ہو جائے بلکہ جتنا استعمال ہوگا اتنا مضبوط ہوگا۔ غیرصحت بخش غذا، خاص طورپر زیادہ نشاستہ اور تلی ہوئی اشیا، کھانے سے پرہیز کریں۔