اسرائیلی بدمعاشی کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل اقوام متحدہ اور دنیا بے بس
15 رکنی سلامتی کونسل کے ارکان میں 14 ارکان فوری جنگ بندی چاہتے تھے اور انہوںنے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا
پاکستان نے غزہ سے متعلق قرارداد امریکا کے ویٹو کی وجہ سے منظور نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاہ لمحہ قرار دیا
نیویارک:امریکا ہمیشہ چٹان کی طرح اسرائیل کی پشت پرکھڑا رہتا ہے اور یہی اسرائیل کی بدمعاشی کی بڑی وجہ بھی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد ایک بار پھر ویٹو کردی۔یہ چھٹی بار ہوا ہے کہ امریکہ نے اس طرح کی قراداد کو ویٹو کیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد امریکا کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے باعث منظور نہیں ہو سکی، 15 رکنی سلامتی کونسل کے ارکان میں 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
قرارداد میں حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کی قید میں تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا، قراداد میں اسرائیل کی حکومت سے کہا گیا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں اور رکاوٹیں فوری طور پر ہٹائے۔
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 10 غیرمستقل ارکان کی جانب سے پیش کی گئی جن میں پاکستان، پانامہ، الجزائر، جمہوریہ کوریا، ڈنمارک، سلوانیہ، سیرالیون، صومالیہ، گیانا اور یونان شامل ہیں۔
اقوام متحدہ میں برطانیہ کی مستقل سفیر باربرا ووڈورڈ نے کہا کہ ان کے ملک نے غزہ میں سنگین انسانی بحران سے نمٹنے، یرغمالیوں کی واپسی اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کے لیے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق قرارداد امریکا کے ویٹو کی وجہ سے منظور نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاہ لمحہ قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے قرارداد منظور نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد غزہ میں ابھرتے ہوئے انسانی بحران کا ازالہ تھا۔ یہ کوئی معمولی کارروائی نہیں تھی، یہ ایک موقع تھا بے مثال بربریت اور تباہی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے دوران عمل کرنے کا، جبکہ اسرائیلی زمینی حملے شدت اختیار کر رہے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ قرارداد منظور نہ ہونے کے پیچھے کسی کے ارادے یا کوشش کی کمی نہیں تھی بلکہ امریکا کا ویٹو تھا، جس پر معذرت ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے اور غزہ میں روزانہ بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے وہاں بچے بھوک سے مررہے ہیں جبکہ اسرائیل نے غزہ میں اسپتالوں کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان آزادفلسطینی ریاست کے قیام تک کوششیں جاری رکھے گا، غزہ میں فوری غیر مشروط جنگ بندی ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ دنیا کے کئی ایک ممالک نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزہ میں فوری جنگ بندی ، امریکہ نے قرارداد پھر ویٹو کر دی




