اسحاق ڈارکی 2005 سے2017 تک آمدن کاریکارڈ عدالت میں پیش

اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران گواہ عبدالرحمان نے اسحاق ڈارکی 2005 سے2017 تک آمدن کاریکارڈ فراہم کر دیا ۔

گواہ عظیم خان نے اسحاق ڈار اور فیملی کے3 بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات احتساب عدالت میں پیش کیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر کررہے ہیں۔

احتساب عدالت میں ضابطہ فوجداری کی شق 512 کے تحت شہادتیں ریکارڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔نجی بینک سے تعلق رکھنے والے استغاثہ کے گواہ عبدالرحمان نے اسحاق ڈارکی 2005 سے2017 تک آمدن کاریکارڈ فراہم کر دیا ۔

گواہ نے اسحاق ڈار اور فیملی کے3 بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی پیش کیں۔دوسرےگواہ فیصل شہزادبہن کی شادی کی وجہ سےپیش نہ ہوسکے۔

مسلسل عدم حاضری پر عدالت اسحاق ڈار کو اشتہار قرار دے چکی ہے،ان کیخلاف استغاثہ نے 28گواہان کی فہرست عدالت میں جمع کرائی، اب تک اسحاق ڈار کے خلاف پانچ گواہان بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔

گزشتہ سماعت پرعدالت نے اسحاق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کوحتمی شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ 3 روز کے اندرملزم کو پیش نہ کرنے کی صورت میں 50 لاکھ روپے کے زرضمانت مچلکے ضبط کرلئے جائیں گے اوراسحاق ڈار کی جائیداد قرقی کا آغاز کیاجائے گا،مزید برآں اسحاق ڈار کی عدم موجودگی میں ٹرائل شروع کیاجائےگا۔

عدالت نے 3 بار پیش کی جانے والی میڈیکل رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسحاق ڈار کو اشتہاری قراردیاتھا ۔