رورل ہیلتھ سنٹرموچھ صحت کی سہولیات دینے کی بجائے عوام کورلانے لگا

میانوالی عبدالقیوم خان نیازی

میانوالی۔۔رورل ہیلتھ سنٹرموچھ عوام کوصحت کی سہولیات دینے کی بجائے عوام کورلانے میں بازی لےگیاایمرجینسی ہارٹ اٹیک کامریض 12جنوری بوقت 5:30ہسپتال لایاگیاہسپتال کوتالے مریض چل بسا

میانوالی ۔۔12جنوری بوقت تقریباساڑھے پانچ بجےشام ماسٹرگلستان خان ایم اےانگلش سکنہ موچھ کےوالد کوہارٹ اٹیک کی شدید تکلیف کی صورت میں آرایچ سی موچھ لایاگیاہسپتال میں نہ ڈاکٹرتھااورنہ عملہ ہسپتال کوتالے لگے ھوئے تھے۔چیف ایگزیکٹوآفیسرہیلتھ میانوالی سمیت پنجاب کی گڈگورنس کوسوچنا چاہیے جہاں ایک قوم کےمعمارکیساتھ اورعوام کےساتھ ایسارویہ جس ریاست میں رواھووہ عوام کدھرجائے ۔اسکاکون زمہداراورزمہداروں کیخلاف کون کارروائی کریگایالاڈلوں کوکون سزادیگابھت بڑے سوالیہ نشان ہیں ۔استاد اپنے والد کولیکرکبھی ادھربھاگتارھاکبھی ادھر لیکن مریض کوفسٹ ایڈ نہ مل سکی آخرکارمیانوالی ہسپتال کیطرف بھاگاخواجہ ابادپرریسکیو1122نے مریض کوریسکیوکیالیکن اس وقت بھت دیر ھوچکی تھی مریض میانوالی ڈی ایچ کیوہسپتال تک پہنچتے پہنچتے اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔اس غفلت اورلاپرواہی جوموچھ کی عوام کامقدربنادیاگیاکون اس کازمہدارھے ۔عوامی سماجی حلقوں نے سی ای او ہیلتھ میانوالی ۔ ڈپٹی کمشنر میانوالی ۔سیکریٹری ہیلتھ پنجاب ۔وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیاھےکہ زمہداروں کیخلاف فوری سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لاکرکڑااحتساب کیاجائے کہ ہسپتال کیوں بند تھی ڈاکٹرکیوں نہ تھاعملہ کہاں غائب تھااس کاکون زمہدارھے ۔عوامی سماجی حلقوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اپیل کی ھے کہ اس کاازخودنوٹس لیکر زمہداران کوکڑی سزادی جائے اورجہاں کروڑوں روپے کےفنڈزضلع کومل رھے ہیں وہاں آرایچ سی موچھ جوکم وبیش ایک لاکھ نفوس پرمشتمل آبادی کومستقل ڈاکٹردینے سے پنجاب اورضلعی حکومت کیوں عمل درآمدتاحال نہ کرسکی جوبھت بڑاسوالیہ نشان ھے ۔علاقے کی عوام میں اضطراب پایاجانےلگاھے کہ آج دن دیہاڑے ایک ماسٹر کاوالد تڑپ تڑپ کرمرگیااس کونہ ڈاکٹرفسٹ ایڈ دے سکااورنہ ہسپتال کاعملہ جوبھت بڑاسوالیہ نشان ھے۔