
تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد دھرنے کے بعد ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر لاہور اور راولپنڈی میں احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد میں اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی فیض آباد معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر دو اپریل سے لاہور کے داتا دربار کے باہر دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فیض آباد میں دھرنے کے بعد ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کرایا جائے جو اس وقت حکومت اور تحریک لبیک کے قائدین کے درمیان طے پایا تھا۔تحریک لبیک کے کارکنان نے لاہور کے مختلف علاقوں میں دھرنے دیے ہوئے ہیں جس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
کارکنان نے شاہدرہ سمیت جی ٹی روڈ اور موٹر وے کو بھی احتجاج کر کے بند کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور اسلام آباد موٹر وے پر فیض پور انٹرچینج پر بڑی تعداد میں تحریک لبیک کے کارکنان جمع ہو گئے ہیں اور انٹرچینج بند کر دیا ہے۔
تحریک لبیک کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں میں دھرنے اور احتجاج کے باعث تحریک لبیک اور حکومت پنجاب کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تاہم کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
تحریک لبیک کے حکومت پنجاب کی جانب سے غیر رسمی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے جس میں لاہور کی انتظامیہ اور صوبائی وزارت داخلہ کے حکام شامل تھے۔
جمعرات کے روز ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری کی جانب سے کارکنوں کو سڑکوں پر آنے اور خادم رضوی کی طرف سے احتجاج ختم ہونے کے اعلان تک واپس نہ جانے کی ہدایت کی تھی۔
تحریک لبیک کے کارکنان نے اسلام آباد میں کئی جگہوں پر دھرنا دینے اور شاہراہیں بلاک کرنے کی کوشش تاہم اسلام آباد انتظامیہ نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔
ایس پی انڈسٹریل ایریا لیاقت نیازی نے بتایا کہ تحریک لبیک کے کارکنان نے روات ٹی کراس پر دھرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے کارروائی کی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ کارکنان نے بھارہ کہو کی شاہراہ بند کرنے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
ایس پی لیاقت نیازی کا کہنا ہے کہ پولیس نے دو درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ تحریک لبیک نے کارکنان کو راولپنڈی میں واقع لیاقت باغ میں جمع ہونے کی ہدایت کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق قریبی شہروں سے کارکنان کی بڑی تعداد راولپنڈی اور اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔




