روز مرہ کے حکومتی معاملات، تقرر و تبادلے، آنا جانا اور ملنا ملانا ہر چیز جادو اور علم کی بنیاد پر ہونے لگی تھی
پاکستان کے حساس ادارے نے بشری بی بی کو ان ایک پیر کے ذریعے قابو کر رکھا تھا،بشری نے روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر عمران کو قابو کئے رکھا
ملازمین کے مطابق عمران کے سر کے گرد کچا گوشت گھمانا، لال مرچیں جلانا، سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھنکوانا اور زندہ سیاہ بکرے منگوانا معمول تھا
علاقے کے قصائی نے بھی ایسے آرڈرز کی تصدیق کی، ایک ایٹمی ملک کو جادو ٹونے اور توہمات پر چلا یا جا رہا تھانبشری بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران اپنا اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنے میں ناکام رہے، دی اکانومسٹ
اسلا م آباد:برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی پر خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کی بشری بی بی سے تیسری شادی نے ناصرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشری بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر روحانی مشاورت کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی، بشری بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔
بعض مبصرین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشری بی بی تک پہنچاتے تھے جنہیں وہ عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے حساس ادارے کی بشری بی بی میں دلچسپی کی پہلی علامت ان کی عمران خان کے ساتھ خفیہ شادی کے فورا بعد سامنے آئی۔ دی اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ آئی ایس آئی نے یہ رشتہ نہیں کروایا تھا لیکن ایسے اشارے ضرور موجود تھے کہ ادارہ اس تعلق سے فائدہ اٹھا رہا تھا، پاکستانی میڈیا میں گردش کرنے والی ایک کہانی کے مطابق سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشری بی بی کو نہایت باریک مگر مثر طریقے سے استعمال کیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حساس ادارہ اپنے ایک افسر کے ذریعے آئندہ ہونے والے واقعات کی معلومات بشری بی بی کے کسی پیر تک پہنچاتا جو اسے آگے بشری بی بی تک منتقل کرتا اور یہ انفارمیشن بشری بی بی عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں، جب وہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا اپنی اہلیہ کی بصیرت پر یقین مزید پکا ہو جاتا۔
رپورٹ کی شریک مصنفہ کی جیونیوز سے گفتگو
دوسری جانب جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دی اکانومسٹ کی خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشری تسکین نے بتایا کہ پہلے بھی بشری بی بی کے جادو ٹونے پر رپورٹنگ ہوتی رہی،لیکن ہم نے اس پر کام شروع کیا تو ہمارے لیے بہت ساری معلومات حیران کن تھیں، سب سے زیادہ بشری بی بی کا روحانی بصیرت کا لبادہ جو اوڑھا ہوا تھا اور عمران خان کو جس طرح انہوں نے کنٹرول کیا تو اس کے نتیجے میں ملک کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سینئر صحافی کا کہنا تھا عمران خان کے جو سیاسی وعدے تھے وہ صرف باتوں کی حد تک تھے، ہم نے اس میں سے کسی ایک پر بھی عمل ہوتے نہیں دیکھا، ہم نے ان کی پارٹی کے سینئر ممبران، ان کی کابینہ میں شامل وزرا، ان کے ممبران پارلیمنٹ سمیت درجنوں افراد سے رابطہ کیا تو اکثریت نے اعتراف کیا کہ عمران خان کی ناکامی کی وجوہات انتظامی تھیں ناکہ اسٹیلشمنٹ کا عنصر ،جس کے بارے میں عمران خان نے بعد میں ایک رائے پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ پارلیمانی جدوجہد کے حامی ہیں حالانکہ عمران خان کو لانے والے اور انہیں چلانے والے وہی لوگ تھے۔
کالے جادو اور سیاست میں مداخلت سے متعلق سوال پر صحافی بشری تسکین کا کہنا تھا اگر آپ کو یاد ہو کہ جب بشری بی بی کی شادی ہوئی تھی تو جمائمہ نے ایک ٹوئٹ کی تھی جس میں کالے جادو کا تذکرہ تھا لیکن بین الاقوامی میڈیا نے اس معاملے کو اس طرح سے رپورٹ نہیں کیا، جب ہم نے اس معاملے کو دیکھنا شروع کیا تو ہمارے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ ہم اپنے ادارے اور بین الاقوامی آڈینس کو کالے جادو یا روحانیت سے متعلق کس طرح سے سمجھائیں گے حالانکہ پاکستان میں تو اس طرح کے معاملات عام ہیں لیکن خوش قسمتی سے ہم جن جن لوگوں سے ملے اور جو ثبوت ہمارے ہاتھ آئے تو اس سے ہمارے لیے چیزیں آسان ہوتی چلی گئیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں خاتون صحافی کا کہنا تھا بشری بی بی کے پاس گزشتہ برس بڑا اچھا موقع تھا وہ ایک بڑا کرئواڈ جمع کرنے میں کامیاب ہو چکی تھیں لیکن وہ پانی کے بلبلے کی طرح بہت جلد ایکسپوز ہوگئیں۔بشری بی بی کی جانب سے طلاق لیکر عمران خان سے شادی کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا جب اس حوالے سے ہماری خاور مانیکا سے بات ہوئی تو انہوں نے ایک جملہ کہا Bushra Bibi is an evil genius، آپ اس سے خود اندازہ لگا لیں، ظاہر ہے وہ تو ان (بشری بی بی) کو بہت سالوں سے جانتے تھے اور جس طرح سے ان کی جو سوچ تھی اور ارادے تھے یا وہ جو کرنا چاہ رہی تھیں اس میں وہ کامیاب ہوئیں تو وہ ثبوت تھا، جو چیز ہمارے لیے دھماکے دار اور حیران کن چیز تھی وہ یہ کہ جب یہ خبر آئی کہ عمران خان کو ایک پیر اور روحانی شخصیت مل گئی ہے اور وہ ایک خاتون ہیں، جب یہ خبر آئی کہ عمران خان نے اپنے پیر سے شادی کر لی ہے تو یہ چیز ہمارے لیے ایک ناقابل قبول فیکٹ کے طور پر سامنے آئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم نے بہت سی روحانی شخصیات سے بھی رابطہ کیا کہ روحانیت کس طرح کام کرتی ہے، جادو ٹونہ کس طرح سے ہوتا ہے تو اکثریت نے کہا کہ ہم لوگ جس طرح بھی ہیں لیکن ہمارا مریدین کے ساتھ تعلق بہت ہی محتاط ہوتا ہے لیکن یہاں پر تو پیر نے مرید سے شادی کر لی ہے تو ہم اس کو نہیں مانتے۔بشری تسکین کا کہنا تھا بشری بی بی کے پاس ایسے ذرائع تھے جو انہیں معلومات فراہم کرتے تھے، اگر ان کے پاس روحانی طاقت ہوتی تو ان کا، عمران خان، پی ٹی آئی کا اور ان کی حکومت کا وہ حال نہ ہوتا جو ہوا، انہوں نے عوامی طور پر اور سیاسی طور پر کوئی چیز حاصل نہیں کی، میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ حکومت پاکستان کے روز مرہ کے معاملات، تقرر و تبادلے، آنا جانا اور ملنا ملانا ہر چیز جادو اور علم کی بنیاد پر ہونے لگی تھی۔
ان کا کہنا تھا 25 کروڑ آبادی والے ایک جوہری ملک کا سربراہ جو یہ دعوی کرتا ہے کہ ان کی پارٹی سب سے زیادہ عوامی مقبول پارٹی ہے اور سب سے بڑی پارٹی ہے وہ اپنی حکومت کے فیصلے جادو اور روحانیت کی بنیاد پر کررہے تھے، یہ چیزیں ہمارے لیے بہت ہی حیران کن تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض سینئر اہلکاروں حتی کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کو بھی شکایت تھی کہ عمران خان اپنی بیوی کی بات زیادہ سنتے ہیں۔2019 میں اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹائے جانے کو بھی بشری بی بی سے جوڑا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے بشری بی بی کی کرپشن کے شواہد عمران خان کے سامنے پیش کیے تھے۔ برطانوی جریدہ کے مطابق بشری بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران اپنا اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنے میں ناکام رہے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بشری بی بی کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں، جیسے عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکوانا اور کبھی کبھار زندہ سیاہ بکرے منگوانا۔
دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایک کردار ایسا ہے جو منظرِ عام پر کم نظر آیا لیکن اس کا پسِ پردہ اثر و رسوخ موضوعِ بحث بنا رہا۔ یہ کردار ہے بشری بی بی کا، جو سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں، ان کی روحانی رہنما بھی اور مبصرین کے مطابق وہ شخصیت جنہوں نے عمران خان کی سیاسی زندگی پر سب سے گہرا اثر ڈالا۔ دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ بشری بی بی سے شادی نے ناصرف عمران خان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔رپورٹ کے مطابق 2018 میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد بشری بی بی کا کردار تیزی سے سیاسی بحث کا حصہ بن گیا، مخالفین نے ان ہر حکومتی فیصلوں پر حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگایا۔
عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن نے تو یہاں تک بتایا کہ بشری بی بی کا وزیرِاعظم ہاس پر مکمل کنٹرول تھا۔ سینِئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشری بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ کے سرکاری فیصلوں پر اثرانداز ہوتی تھیں، جس سے عمران خان کی فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی۔ اور نتیجا عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ڈرائیور اور گھر کے سابق ملازمین نے دعوی کیا کہ بشری بی بی کے آنے کے بعد گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں، جیسے عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، لال مرچیں جلانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھنکوانا اور کبھی کبھار زندہ سیاہ بکرے منگوانا، علاقے کے قصائی نے بھی ایسے آرڈرز کی تصدیق کی۔
پی ٹی آئی کے اندر یہ تاثر پھیل گیا تھا کہ اگر کسی نے بشری بی بی پر تنقید کی تو اسے پارٹی سے نکال دیا جائے گا: رپورٹ
دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ایک رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالا جادو کرتی ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے ان باتوں کو ناراض ملازمین کی پھیلائی ہوئی بے بنیاد کہانیاں قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے بعد ایک دعوت میں جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران بشری بی بی نے خود جہانگیر ترین سے کہا کہ انہوں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ آپ مجھے کالے جادو والی عورت نہ سمجھیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے اسی رات سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی میں ان کا مستقبل نہیں، اور بعد میں پارٹی چھوڑ دی، جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ تاثر پھیل گیا کہ اگر کسی نے بشری بی بی پر تنقید کی تو وہ پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق عون چوہدری بھی اسی وجہ سے زیرِ عتاب آئے، عمران خان نے انہیں حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشری بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی، اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان سیاسی اور سرکاری فیصلوں سے پہلے بشری بی بی سے رائے لیتے تھے اور ان کے کہنے پر لوگوں کی تصاویر بھیج کر چہرہ شناسی کرواتے تھے، یہاں تک کہ ایک بار فلائٹ چار گھنٹے تک رکی رہی، کیونکہ بشری بی بی کے مطابق اڑان کا وقت موزوں نہیں تھا۔
بشری بی بی کے کردار پر اختلاف صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں تھا، فوجی قیادت کے ساتھ عمران خان کے تعلقات بھی ایک مرحلے پر شدید کشیدگی کا شکار ہوگئے۔



