پاکستان اور اقوامِ متحدہ خواتین و بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشوں پر متفق


اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزارتِ انسانی حقوق نے اقوامِ متحدہ پاکستان اور اس کی رکن ایجنسیوں، جن میں یو این ویمن، یو این ڈی پی، یونیسف، یو این ایف پی اے، آئی او ایم اور دیگر ادارے شامل ہیں، کے تعاون سے صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ مہم کے سلسلے میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں قومی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں وفاقی و صوبائی نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے عہدیداران، ترقیاتی شراکت دار، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، نوجوان، میڈیا، فنکار اور ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خواتین اور بچیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد، بالخصوص تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی وزیر نے اس سال کے عالمی موضوع "خواتین اور بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہوں” کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل ترقی نے تعلیم، جدت، روزگار اور عوامی شرکت کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، تاہم ان کے ساتھ آن لائن ہراسگی، سائبر اسٹاکنگ، جعلی پروفائلز، ڈیپ فیک کے غلط استعمال، بلیک میلنگ اور نفرت انگیز مواد جیسے سنجیدہ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا، "ڈیجیٹل تشدد ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات دور رس ہیں۔ خواتین اور بچیاں جامعات، دفاتر، میڈیا، سیاست اور زندگی کے دیگر شعبوں میں روزانہ آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرتی ہیں۔ خوف، سماجی دباؤ اور پیچیدہ شکایتی نظام کی وجہ سے بہت سی خواتین اپنی آواز بلند نہیں کر پاتیں۔ یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہیے اور ہم اسے تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔”
وفاقی وزیر نے خواتین کے خلاف تشدد پر حکومت کے زیرو ٹالرنس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور ملکی سطح پر جاری قانونی و ادارہ جاتی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے تحفظِ ہراسگی برائے خواتین درِ کار (ترمیمی) ایکٹ 2022، انسدادِ ریپ (تحقیق و ٹرائل) ایکٹ 2021، خواتین کے جائیداد کے حقوق کے نفاذ کا ایکٹ 2020 اور انسدادِ اسمگلنگِ انسان ایکٹ 2018 جیسے قوانین کا حوالہ دیا، جبکہ نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، فیملی پروٹیکشن سینٹر، اور 1099 ہیلپ لائن کے ذریعے فراہم کی جانے والی قانونی رہنمائی اور معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ انسانی حقوق ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے جانے والے صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے قومی حکمتِ عملی تشکیل دے رہی ہے، جبکہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی قومی پالیسی کو بھی آخری مراحل تک پہنچایا جا رہا ہے، جو متاثرہ افراد کے حقوق پر مبنی جامع فریم ورک فراہم کرے گی۔ وزیر نے میٹا سمیت تکنیکی اداروں کے ساتھ جاری تعاون کو بھی اہم قرار دیا، جس کے تحت آن لائن سیفٹی ٹولز، رپورٹنگ میکانزم اور متضررین کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ روک تھام اور آگاہی دیرپا تبدیلی کا بنیادی ستون ہیں، اور حکومت تعلیمی اداروں، نوجوانوں کے نیٹ ورکس اور کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل خواندگی، ذمہ دارانہ آن لائن سرگرمیوں اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔