لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کیونکہ وہ حکمرانوں پر اعتماد نہیں کرتے ،عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کیونکہ وہ حکمرانوں پر اعتماد نہیں کرتے ، پاکستان اپنی ترقی کی رفتار برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا، چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر وہ کام کیا جو انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوسکا، چین نے یہ سب مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر عمل کرکے کیا۔

دبئی میں جاری ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب کرکٹ شروع کی تو پاکستان دنیا کی کمزور ترین ٹیم تھی لیکن جب کرکٹ چھوڑی تو پاکستان ورلڈ چیمپیئن تھا۔ کینسر ہسپتال لوگوں کی مدد سے بنایا ، شوکت خانم دنیا کا واحد ہسپتال ہے جس میں کینسر کے 80 فیصد مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔ لوگ کینسر ہسپتال کیلئے خیرات تو دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے ۔ ہم دنیا کے پانچ ممالک میں شامل ہیں جو سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں لیکن ہم ان ممالک میں بھی شامل ہیں جہاں سب سے کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنے حکمرانوں پر اعتماد نہیں کرتے ۔

 انہوں نے کہا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا ، پی آئی اے نے متحدہ عرب امارات کی ایئر لائن کھڑی کرنے میں مدد کی لیکن آج باقی ممالک ترقی کرگئے اور پاکستان اپنی ترقی کی رفتار برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا، متحدہ عرب امارات کی ترقی اس کی لیڈرشپ کے وژن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔میں نے پاکستان جتنا ٹیلنٹ دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیکھا لیکن ہمارے ملک میں ایسا سسٹم نہیں ہے جس سے میرٹ پر لوگ آگے آسکیں۔ 60 کی دہائی میں ہماریترقی کی سب سے بڑی وجہ بہترین بیوروکریسی تھی

وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں طویل جدوجہد اور مسلسل ناکامیوں کے بعد 2013 میں اس صوبے میں حکومت ملی جو جنگ سے تباہ ہوچکا تھا، خیبر پختونخوا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی بھی حکومت کو صرف ایک موقع دیتا ہے۔ ہم نے وہاں بیوروکریسی اور پولیس کو سیاست سے پاک کیا، لوگوں پر پیسہ خرچ کیا ۔ ہماری حکومت کے پانچ سالوں کے دوران ہم نے آدھی غربت ختم کی جس کے باعث لوگوں نے ہمیں دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ منتخب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انسانی تاریخ میں کسی قوم نے وہ نہیں کیا جو چین نے صرف 30 سال میں کردکھایا ، چین نے اتنے مختصر عرصے میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ چین نے یہ سب ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل کرکے کیا ہے۔ میرا سپنا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا ہے، کیونکہ ریاست مدینہ نے انسانی تہذیب کے سب سے بہترین دور کی بنیاد رکھی، ریاست مدینہ انصاف اور انسانیت کے اصولوں کی بنیاد پر قائم کی گئی جو دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی ۔ ریاست مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی جس میں بزرگ افراد اور غریبوں کیلئے وظائف مقرر تھے اور چین نے بھی اسی طرح کے اقدامات سے غربت کا خاتمہ کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں طویل جدوجہد اور مسلسل ناکامیوں کے بعد 2013 میں اس صوبے میں حکومت ملی جو جنگ سے تباہ ہوچکا تھا، خیبر پختونخوا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی بھی حکومت کو صرف ایک موقع دیتا ہے۔ ہم نے وہاں بیوروکریسی اور پولیس کو سیاست سے پاک کیا، لوگوں پر پیسہ خرچ کیا ۔ ہماری حکومت کے پانچ سالوں کے دوران ہم نے آدھی غربت ختم کی جس کے باعث لوگوں نے ہمیں دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ منتخب کیا۔