150 زخمیوں میں سے 25 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے،9 زخمی آئی سی یو میں ہیں

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں مسجد کے اندر نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہوگئی ہے 150 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے 25 کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ ان میں سے 9 افراد آئی سی یو میں ہیں۔ خودکش دھماکہ گزشتہ روز نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب لوگ دوسری رکعت کے سجدے میں تھے۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور کو اند ر داخل ہونے سے روکنے پر اس نے فائرنگ بھی کی۔فائرنگ کی زد میں آکر حسن عباس شاہ شہید جبکہ ان کے والد زخمی ہوگئے جنھیں ٹانگ میں تین گولیاں لگیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ دوسری رکعت کے سجدے میں ہوا۔ خودکش دھماکے میں آئی جی اسلام آبادکے کزن اور دیگر اہم شخصیات جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا قومی شناختی کارڈ مل گیا ہے ۔جس سے اس کا نام یاسر معلوم ہوا ہے۔ پشاور میں ملزم کے ایڈرس سے اس کے دو بھائیوں اور ایک بہن کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملزم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ چھ ماہ قبل افغانستان گیا تھا جہاں اس نے اسلحہ چلانے کی تربیت بھی حاصل کی ۔
اس سانحے پر ملک بھر اور جڑواں شہروں کی فضا سوگوار ہے ۔اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں
واقع پر صدر وزیراعظم سمیت وفاقی وزراء نے گہرے صدمے اور رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ مختلف عالمی لیڈروں اور دوست اسلامی ممالک کے سربراہان نے بھی واقعہ پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روس کے صدر پوٹن نے تعزیتی خطوط لکھ کر واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔


