امریکی صدر ٹرمپ اور سپریم کورٹ آمنے سامنے


عدالت نے 10 فیصد عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا تو ٹرمپ نے ٹیرف بڑھا کر 15 فیصد کر دیا
صدر کو 150 دن کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے،عدالت کے فیصلہ پر بھی تنقید
مخالفین خوش نہ ہوں جو چاہوں کر سکتا ہوں، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے،ٹرمپ

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوا ن ملک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سپریم کورٹ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ٹرمپ نے امریکا میں درآمد ہونے والی تمام اشیا پر عائد عارضی عالمی ٹیرف کی شرح 10 فیصد
بڑھا دی تھی جس پر سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف فیصلہ دیا ۔عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے نہ صرف اس عدالتی فیصلے پر سخت تنقید کی بلکہ کھل کر عدالتی فیصلے کے سامنے آتے ہوئے یہی ٹیرف دس سے بڑھا کر پندرہ فیصد کر دیا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں درآمد ہونے والی تمام اشیا پر عائد عارضی عالمی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر رہے ہیں۔ ٹیرف میں شامل کئی ملک ایسے ہیں، جو کئی دہائیوں سے امریکا کا استحصال کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا آنے والے مہینوں میں قانونی طور پر نئے اور قابلِ اجازت ٹیرف کا تعین کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے معاشی ہنگامی قانون کے تحت نافذ کیے گئے ان کے اہم ٹیرف پروگرام کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔عدالت کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جمعہ کو تمام درآمدات پر فوری طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا حکم دیا تھا، جو پہلے سے لاگو ڈیوٹیز کے علاوہ ہوگا۔متعلقہ قانون کے تحت صدر کو 150 دن کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس اقدام کو قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹرتھ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ فوری طور پر 10 فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر قانونی طور پر منظور شدہ 15 فیصد کی مکمل سطح تک لے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک دہائیوں سے امریکا کا استحصال کرتے آئے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق اس 150 روزہ مدت کے دوران ان کی انتظامیہ نئے اور قانونی طور پر قابل قبول ٹیرف اقدامات متعارف کرانے پر کام کرے گی۔ ٹیرف میں شامل کئی ملک ایسے ہیں، جو کئی دہائیوں سے امریکا کا استحصال کرتے آ رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں قانونی طور پر نئے اور قابلِ اجازت ٹیرف کا تعین کریں گے
یا د رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے دوسرے ممالک پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے فیصلے ہماری قوم کی توہین ہیں۔ انہوں نے عدالت پر سیاسی دباو ہونے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ عدالت کتنی آسانی سے دبا ومیں آ جاتی ہے۔ ایسے فیصلے امریکی قوم کی توہین ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگرممالک سپریم کورٹ کے فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیگر قائم نہیں رہے گی، میں جو چاہوں کر سکتا ہوں، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کر دیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائیگا۔ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ممالک پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیرقانونی قرارددیا تھا اور یہ فیصلہ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے سنایا تھا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے لیے کانگریس کی واضح اجازت درکار ہے اورآئی ای ای پی اے اس کے لیے اختیارات نہیں دیتا۔لیکن صدر ٹرمپ عدالتی فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اس پر عمل کی بجائے ٹیرف بڑھا کر 15 فیصد کر نے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے فیصلے ہماری قوم کی توہین ہیں۔ انہوں نے عدالت پر سیاسی دباو ہونے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ عدالت کتنی آسانی سے دبا ومیں آ جاتی ہے۔ ایسے فیصلے امریکی قوم کی توہین ہیں۔