امریکہ کو خطرہ نہیںتھا،یہ جنگ اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دبا ئوکے نتیجے میں شروع ہوئی
ایران پر حملے اور فوری کامیابی کے دعوے 2003 کی عراق جنگ سے قبل کی صورتحال کی یاد دلاتے ہیں
واشنگٹن: امریکا کے نیشنل کائونٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ جو کینٹ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دبا ئوکے نتیجے میں شروع کی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں جو کینٹ نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے امریکا کو اس تنازع میں شامل کرنے میں کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے ایک مس انفارمیشن کی مہم چلائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اور فوری کامیابی کے دعوے انہیں 2003 کی عراق جنگ سے قبل کی صورتحال کی یاد دلاتے ہیں۔
جو کینٹ خود بھی عراق جنگ میں شامل رہے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ بھی شام میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئی تھیں۔انہوں نے لکھا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے 11 مرتبہ جنگی خدمات انجام دیں اور اپنی اہلیہ کو اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ میں کھویا، وہ نئی نسل کو ایسی جنگ میں بھیجنے کی حمایت نہیں کر سکتے جو امریکی عوام کے مفاد میں نہ ہو اور جس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔انہوں نے کہا ان وجوہات کی بنا پر یہ جنگ میرے ضمیر پر ایک بوجھ ہے اور اس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی۔



