انسان دنیا میں ہر بوجھ اٹھا سکتا ہے لیکن کسی بیگناہ کے دل توڑنے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا
میں اپنی دیہاتی بیوی کو چھوڑ کر امریکہ آ گیا اور یہاں آ کر دوسری شادی کر لی۔ اس وقت مجھے لگتا تھا کہ میں نے زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ میرے دل میں دولت، آسائش اور جدید زندگی کا خواب تھا۔ گاؤں کی سادہ سی لڑکی مجھے اپنی شان کے خلاف لگتی تھی۔میری پہلی بیوی بہت خاموش اور شریف طبیعت کی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ میرے لیے احترام اور محبت ہوتی تھی، مگر میں اس محبت کی قدر نہ کر سکا۔ جب میں امریکہ جانے لگا تو اس نے بس اتنا کہا تھا،
اللہ آپ کو کامیاب کرے، میں آپ کا انتظار کروں گی۔میں نے اس کی بات کو سن کر بھی ان سنا کر دیا تھا۔
امریکہ پہنچ کر کچھ ہی عرصے میں میری ملاقات ایک پاکستانی نژاد لڑکی سے ہوئی۔ وہ جدید خیالات کی مالک تھی۔ اس کی باتوں میں چمک تھی اور مجھے لگا کہ یہی وہ زندگی ہے جس کا میں خواب دیکھتا تھا۔ چند مہینوں میں ہم نے شادی کر لی۔میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
ایک دن پاکستان سے میرے والد کا فون آیا۔ ان کی آواز میں سختی تھی۔
انہوں نے کہا،تمہاری بیوی حاملہ ہے۔میں چونک گیا۔ میرے ذہن میں فوراً شک پیدا ہوا۔ میں نے غصے سے کہا،“یہ بچہ ناجائز ہے۔ میں نے تو اسے چھوا تک نہیں تھا۔میری اس بات نے سب کچھ بدل دیا۔
ابا کو شدید غصہ آیا۔ انہوں نے گاؤں میں میری بیوی کو بدکردار کہہ دیا اور اسے گھر سے نکال دیا۔ گاؤں والوں نے بھی اس پر انگلیاں اٹھائیں۔مگر میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔
وقت گزرتا گیا۔ میں امریکہ میں اپنی نئی زندگی میں مصروف رہا۔ میرے پاس پیسہ تھا، بڑا گھر تھا، گاڑی تھی۔ مگر زندگی کا سکون کہیں گم ہو گیا تھا۔کئی سال بعد اچانک میری امریکی بیوی کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ پہلے تو ہم نے اسے معمولی بیماری سمجھا، مگر جب ٹیسٹ ہوئے تو پتہ چلا کہ اسے کینسر ہے۔
یہ خبر میرے لیے بجلی بن کر گری۔میں اسے ایک بڑے ہسپتال لے گیا۔ وہاں کے ڈاکٹرز نے رپورٹس دیکھیں۔ پھر ایک ڈاکٹر نے یہ کیس پیچیدہ ہے۔ ہمیں ایک خاص ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہوگی۔ سنجیدگی سے کہاہمیں ایک اور ہسپتال بھیجا گیا۔میں بیوی کو لے کر وہاں پہنچا۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں ہر دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ مگر استقبالیہ پر بیٹھے شخص نے کہا کہ ڈاکٹر بہت مصروف ہیں اور ابھی کسی مریض کو نہیں دیکھ سکتیں۔میں ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھ کر رو رہا تھا۔ میری بیوی اسٹریچر پر کمزور پڑی تھی۔
اسی وقت ایک تقریباً پندرہ سولہ سال کا لڑکا میرے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی ہمدردی تھی۔
اس نے آہستہ سے پوچھا،“انکل آپ کیوں رو رہے ہیں؟”
میں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا،“میری بیوی کو کینسر ہے… ڈاکٹر علاج نہیں کر رہے۔”
لڑکے نے فوراً کہا،“فکر نہ کریں۔ میری مما یہاں ڈاکٹر ہیں۔ وہ ضرور علاج کریں گی۔”
اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہمیں ایک کمرے کی طرف لے گیا۔
میرا دل دھڑک رہا تھا۔
جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئے، میں نے سامنے بیٹھی ڈاکٹر کو دیکھا… اور میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔
وہ میری پہلی بیوی تھی۔
وہی سادہ سی دیہاتی لڑکی… مگر اب اس کی آنکھوں میں اعتماد تھا، چہرے پر وقار تھا اور وہ سفید کوٹ میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن چکی تھی۔
میں ساکت رہ گیا۔
میری زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔
اس نے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں لمحہ بھر کے لیے حیرت آئی، مگر پھر وہ فوراً سنبھل گئی۔
لڑکے نے خوشی سے کہا،“مما! یہ انکل بہت پریشان ہیں۔ ان کی بیوی کو کینسر ہے۔ آپ ان کا علاج کر دیں نا۔”
میں نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا، یہ… یہ تمہارا بیٹا ہے؟” “
اس نے پرسکون لہجے میں جواب دیا،
“جی ہاں۔”
میرا دل ڈوبنے لگا۔
میں نے لڑکے کو غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھیں بالکل میری جیسی تھیں۔
میرے ہونٹ خشک ہو گئے۔
میں نے بمشکل کہا،
“کیا… یہ…؟”
وہ میری بات سمجھ گئی۔
اس نے آہستہ سے کہا،
“ہاں۔ یہی وہ بچہ ہے جسے تم نے ناجائز کہا تھا۔”
میرے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
میرے ذہن میں وہ دن گونجنے لگے جب میں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی بیوی پر الزام لگا دیا تھا۔ جب میرے والد نے اسے گھر سے نکال دیا تھا۔
میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔میں نے آہستہ سے کہا، مجھے معاف کر دو “ … میں بہت بڑا گناہ گار ہوں۔”
کمرے میں چند لمحوں تک خاموشی رہی۔
پھر اس نے گہری سانس لی اور کہا،
“زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ جب مجھے گھر سے نکالا گیا تو میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے پڑھائی جاری رکھی۔ لوگوں نے بہت باتیں کیں، مگر میں نے اپنے بیٹے کے لیے سب برداشت کیا۔ آج اللہ نے مجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔”
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔میں نے کہا،
“میں اس قابل نہیں کہ تم سے کچھ مانگ سکوں… مگر میری بیوی کا علاج کر دو۔”
اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نہ نفرت تھی نہ غصہ۔
وہ بس ایک ڈاکٹر تھی… جو اپنے فرض کو سمجھتی تھی۔
اس نے نرس کو بلایا اور کہا،
“مریضہ کو داخل کر لیں۔ علاج شروع کریں۔”
میں حیران رہ گیا۔میں نے کہا،
“تم میرے ساتھ اتنی مہربانی کیوں کر رہی ہو؟”
اس نے آہستہ سے جواب دیا،
“کیونکہ میں وہ نہیں بننا چاہتی جو تم تھے۔”
یہ الفاظ میرے دل میں تیر کی طرح لگے۔
کمرے سے باہر نکلتے وقت وہ لڑکا میرے پاس آیا اور مسکرا کر بولا،
“انکل فکر نہ کریں۔ میری مما بہت اچھی ڈاکٹر ہیں۔ وہ سب کو ٹھیک کر دیتی ہیں۔”
میں اس کی معصوم آنکھوں کو دیکھتا رہ گیا۔
وہ میرا بیٹا تھا… مگر اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا۔
اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان اپنی زندگی میں سب کچھ حاصل کر سکتا ہے… مگر اگر وہ کسی بے گناہ کا دل توڑ دے تو اس کا بوجھ ساری زندگی اس کے ساتھ رہتا ہے۔
اور میں وہ بوجھ ہمیشہ اٹھاتا رہوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




