ایران کی حمایت یمنی حوثیوں کے بھی اسرائیل پر میزائل حملے

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر رکھا ہے
حملہ لبنان، ایران، عراق اور فلسطین میں شہریوں کی اموات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کےردعمل میں کیا گیا. حوثی

صنعا:اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا گیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل کو ایران سے جنگ کے دوران یمن سے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یمن نے ہفتے کی صبح اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل کو ایران سے جنگ کے دوران یمن سے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب بیئرشبع اور اسرائیل کے مرکزی جوہری تحقیقاتی مرکز کے قریب تیسری مرتبہ سائرن بجے کیونکہ ایران اور حزب اللہ رات بھر اسرائیل پر فائرنگ جاری رکھے ہوئے تھے۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر اسرائیل پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
حوثی اس جنگ میں اب تک شامل نہیں ہوئے تھے۔ حوثی اس سے قبل اسرائیل پر ڈرون حملے بھی کر چکے ہیں۔
جمعے کو حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ بیان جاری کیا، جس میں باغیوں کے ایران کی حمایت میں جنگ میں شامل ہونے کے کئی ممکنہ طریقے بیان کیے گئے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حوثیوں کی اس جنگ میں شمولیت وسیع تر علاقائی تصادم کے خدشات بڑھا دے گی، خصوصا اس لیے کہ حوثیوں کی صلاحیت یمن سے بہت دور تک اہداف کو نشانہ بنانے اور عرب جزیرہ نما اور بحیرہ احمر کے اردگرد بحری تجارتی راستوں میں خلل ڈالنے کی ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کا آج 28واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے آپریشن ایپک فیوری جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو وعدہ صادق 4 کا نام دیا ہے۔
اسرائیل نے جمعے کو ایران کو دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے حملوں کو بڑھائے اور پھیلائے گا، جس کے چند گھنٹے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا۔
یمن کے حوثی گروپ کا کہنا ہے انہوں نے اسرائیل پربیلسٹک میزائلوں سےحملہ کیا، ہدف مقبوضہ مغربی کنارے کےجنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات تھیں۔
حوثی گروپ کا کہنا ہے حملہ لبنان، ایران، عراق اور فلسطین میں شہریوں کی اموات، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کےردعمل میں کیا، اہداف حاصل کرنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔