اس جنگ کے باعث تاریخ میں پہلی بار امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات ہیں
ایران جنگ میں گھسیٹنے پر امریکی صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے سخت ناراض ہیں
ٹرمپ نے اپنا دامن بچانے کے لئے نائب صدر جے ڈی وینس کو نیتین یاہو کے پیچھے لگا دیا ہے امریکی میڈیا
ٹرمپ ہر صورت اس جنگ سے جلد از جلد جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن سیف ایگزیٹ کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا
اس وقت سب سے اہم اور مشکل سوال یہ ہے کہ سیف ایگزٹ کے لئے شکست کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے
اسلام آباد(رپورٹ :محمدرضوان ملک)امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے حملوں کی طوالت اور ایران کی خلاف توقع مزاحمت نے تاریخ میں پہلی بار امریکہ اسرائیل دوستی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ ہر صورت اس جنگ سے جلد از جلد چان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن انہیں کوئی سیف ایگزٹ نظر نہیں آرہا۔ اس جنگ کی طوالت کے باعث ٹرمپ سخت ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور خاص کر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے سخت ناراض ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو ان کے پیچھے لگا دیا ہے ۔
لیکن اس وقت سب سے اہم اور مشکل سوال یہ ہے کہ سیف ایگزٹ کے لئے شکست کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے۔ایران کے خلاف جنگ پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان الزام تراشیاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے اپنے معتمد خاص کو ان کے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ خواہ دنیا کے سامنے ایران کے خلاف جیت کا دعویٰ کرتے نہ تھک رہے ہوں لیکن وہ خود بھی یہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ انہیں ایران کس طرح سے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دےرہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نہ تو ایران کے جوہری مقاصد کو پٹری سے اتار سکے اور نہ ہی اسے حکومت میں تبدیلی پر مجبور کر سکے۔ اپنے سپریم لیڈر سے لے کر سیکورٹی چیف تک کو کھونے کے باوجود ایران کے حوصلے بلند ہیں اور وہ مسلسل جنگ جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف کو مسلسل نشانہ بناکر امریکہ کی ناک میںدم کئے ہوئے ہے۔
جنگ کی موجودہ صورتحال صدر ٹرمپ کے لئے بڑی اور ذلت آمیز شکست ثابت ہو رہی ہے۔ اس دوران امریکی صدر اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اپنی ’شکست‘ کا ذمہ دار کسے ٹھہرائیں اور کیسے جنگ سے باہر نکل جائیں۔’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے میگزین کی رپورٹ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے سب سے وفادار اور سخت مزاج رکھنے والے ملک کے نائب صدرجے ڈی وینس کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے پیچھے لگا دیا ہے ۔ ٹرمپ نے انہیں ایک ہی مقصد دیا ہے کہ وہ کسی طرح سے پورا الزام نیتن یاہو پر لگائیں اور ٹرمپ کو اس جنگ سے باہر نکالیں۔ اسکے بعد ہی جے ڈی وینس اور یاہو کے درمیان فون پر بات ہوئی جس میں خوب الزام تراشیا ں ہوئی ہیں۔
برطانیہ کے مشہور اخبار ’’دی انڈیپنڈنٹ ‘‘کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ جے ڈی وینس نے ایک انتہائی سخت فون کال میں مبینہ طور پر نیتن یاہو کی بری طرح سرزنش کی ہے۔ وینس نے براہ راست الزام لگایا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ کے بارے میں جو سبز باغ دکھائے تھے وہ پوری طرح سے جھوٹے اور کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہ نیتن یاہو نے ہی ٹرمپ کو بہلا پھسلا کرجنگ میں گھسیٹا اور اب امریکہ پوری دنیا میں رسوا ہو رہا ہے۔
’ایکسس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پہلے ان کی ایک بھی پیش گوئی زمین پر سچ نہیں ہوئی۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا خاتمہ ایران میں بغاوت کا باعث بنے گا لیکن اس کے برعکس وہاں کے سخت گیر قوم پرست عناصر کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوگئی اور اب وہ ہر قیمت پر ایٹم بم کے حصول کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ آئندہ کسی بھی حملے کو پہلے ہی روکا جاسکے۔
اسی دوران وہائٹ ہاؤس کے ایک ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ’بی بی(نیتن یاہو کی عرفیت)‘ نے صدر ٹرمپ کو یہ کہہ کر اُکسایا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی قریب ہے اور جنگ آسان ہو جائے گی لیکن جے ڈی وینس شروع سے ہی اس نظریے کے مخالف تھے۔ اب جبکہ جنگ زور پکڑ رہی ہے اور امریکی معیشت کیلئے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے تو یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فون کال نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو اس حد تک خراب کر دیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔اس تنازع کے دوران ایک اور دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب ایک اسرائیلی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جے ڈی وینس نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کیخلاف تشدد کے حوالے سے فون پر نیتن یاہو کو ڈانٹا ہے۔ حالانکہ وہائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تردید کردی لیکن سب جانتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔



