ساری دنیا کی امید افزا نظریں اس وقت پا کستان پر ہیں ۱۱ اپریل عالمی امن کےلئے سب سے بڑا دن ہوسکتا ہے
امن کی راہ ایک د ن میں نہیں نکلے گی لیکن امید ہے کہ کچھ دن کی بات چیت کے بعد راستہ نکل ہی آئے گا
مایوسی کے گہرے سائے ہر طرف چھائے تھے کہ پاکستان نے دنیا کونہ صرف امن کی نوید سنائی بلکہ اس کی راہ بھی دکھائی
مذاکرات سے نہ صرف امن آئے گا بلکہ مہنگائی اور غربت کا خاتمہ بھی ہوگاا ور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا
یہ امن کا وہ منصوبہ ہے جس کا دنیا کے پاس کوئی پلان بی اور سی نہیں ہے پلان اے کو ہی کامیاب کرنا ہوگا
ایک وقت تھا کہ عالمی رہنما پاکستانی وزیراعظم کا فون نہیں سنتے تھے اور آج پاکستانی وزیراعظم سے فون پر بات کرنا اپنا اعزاز سمجھتے ہیں
اسلام آباد(رپورٹ:محمد رضوان ملک)چالیس روزہ ایران امریکہ جنگ جس سے دنیا کا امن شدید خطرے میں پڑھ گیا تھا،خاص طور پر اس جنگ نے دنیا کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔دنیا کی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے پاکستان نے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اورپاکستان کی کوششوں کے باعث آج گیارہ اپریل کو فریقین امن کے لئے اسلام آباد میں مل بیٹھیں گے ۔اس میں شک نہیں کہ یہ ایک بہت مشکل ٹاسک تھا جس کا پاکستان نے بیڑا اٹھایا جب دنیا پر مایوسی کے گہرے سائے بہت گہرے ہو رہے تھے تو پاکستان نے دنیا کو امن کی نہ صرف نوید سنائی بلکہ راہ بھی دکھائی اور غالب امید ہے کہ آج اس راہ پر چلنے کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔
اس سلسلے میں پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف ،وزیر خارجہ اسحاق ڈٓار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور پوری دنیا ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور انہیں سراہا بھی رہی ہے۔ دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسا ملک یا شخص ہو جو اس اہم کاوش پر خوش نہ ہو۔
پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل ہونے سے والی اس جنگ بندی کے بعد سے دنیا بھر کے اخبارات اور چینلز اس بات پر پاکستان کی تحسین کرتے نہیں تھک رہے اور پہلی بار دنیا کو احساس ہو رہا ہے ایران کا ایٹمی پروگرام دنیا کے لئے اتنا خطرہ نہیں جتنا آبنائے ہرمز کی بندش پر اسے اٹھانا پڑھ رہا ہے۔
پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نہ صرف فریقین میں جنگ بندی کرائی بلکہ اس امن کو مستقل طور پر حاصل کرنے کے لئے میزبانی بھی فراہم کی۔
پاکستان آج ایک ایسے مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے جو دنیا میں امن سلامتی اور خوشحالی لے کر آنے والے ہیں۔ ان مذاکرات نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف امن پسند ملک ہے بلکہ امن کو پسند کرتا ہے اور اس کے لئے اپنا کردار ادا کرنا اپنے فرض منصبی سمجھتا ہے۔
گو ان مذاکرات سے بعض افراد کو زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ امن اس وقت نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ دنیا بھر کی خواہش ہے ۔اس چالیس روزہ جنگ نے دنیا کی معاشی چولیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔
بعض رہمائوں کی طرف سے دئے جانے والے متنازعہ بیانات صرف فریقین کی فیس سیونگ ہے حقیقت یہ ہے کہ جنگ کو جاری رکھنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور امن کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے یہ مذاکرات ایک مشکل مذاکرات ہیں ان ک نتیجہ ایک دن میں نہیں نکلے گا کچھ دن لگیں گے لیکن معاملہ حل ہوہی جائے گا کیونکہ دنیا اور فریقین کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے یہ وہ منصوبہ ہے جس کا دنیا کے پاس کوئی پلان بی اور سی نہیں ہے پلان اے کو بھی کامیاب کرنا ہوگا
دنیا امن کی تلاش میں راستہ پاکستان سے نکلے گا ،پاکستان امن کا نشان



