باجوڑ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مقامی رہنما مفتی سلطان محمود جاں بحق ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمان کی جان کو بھی خطرہ ہے الرٹ جاری

جے یو آئی ایف رہنما قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے

باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مقامی رہنما مفتی سلطان محمود جاں بحق ہو گئے۔

مولانا فضل الرحمان کی جان کو بھی خطرہ ہے الرٹ جاری کردیا گیا

گذشہ روز باجوڑ کی تحصیل ماموند میں  فائرنگ سے  مفتی سلطان محمدشدید زخمی ہوگئے تھے ۔انہیں بعد ازاں تشویشناک حالت کے باعث پیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ رات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔بتایا گیا ہے کہ  مفتی سلطان محمد پیر کے صبح نماز فجر کے ادایگی کے لیے قریبی مسجد جار ہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی لوگوں نے انہیں علاج کے لیے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال خار پہنچادیا جہاں پر تین گھنٹے تک زیر علاج رہنے کے بعد انہیں پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کے زریعے پشاور کے ایک کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیاگیا ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پولیس کے حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ۔

مفتی سلطان محمود باجوڑ کی تحصیل ماموند میں جمعیت علمائے اسلام کے امیر تھے۔انہوں نے انتخابات کے دوران پی کے 102 سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا۔خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو پہلے ہی اس بات سے آگاہ کیا جا چکا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرے سے متعلق تھریٹ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔اس کے پیچھے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ قرار دے دیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان پر "را” اور "این ڈی ایس” جان لیوا حملہ کرسکتے ہیں۔اس متعلق پراونشل انٹیلی جنس سینٹرہوم ڈیپارٹمنٹ نے تھریٹ الرٹ سے حکومت پنجاب کو آگاہ کردیا ہے۔

Image result for fazal rehman pic"

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر سے آزادی مارچ کا آغاز کر رکھا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیرمولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا حکومت مخالف آزادی مارچ سندھ سے پنجاب میں داخل ہوگیا اور آج رات لاہور پہنچے گاجبکہ فضل الرحمٰن نے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز حکومت کو ہر صورت گھر جانا ہو گا۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے اس آزادی مارچ میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی مولانا کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ایسے میں آزادی مارچ میں دہشتگردی کے خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد سے ہی اہم اداروں نے آزادی مارچ اور دھرنے میں دہشتگردی کے خدشے کا اظہار کر دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو دہشتگردی کا نشانہ بنائے جانے اور مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرہ ہونے سے متعلق تھریٹ الرٹ جاری ہونے کے بعد سے سکیورٹی ادارے بھی متحرک ہو گئے ہیں اور ضروری اقدامات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔