عالمی امن کے لئے پاکستان پھر متحرک


امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی پر پاکستان متحرک ہوا
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی اچانک تہران پہنچ گئے،اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں
ٹرمپ نےحملے کی دھمکی میں اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ کچھ پاکستانی دوست تنازعے کے پرامن حل کے لئے کوشاں ہیں

اسلام آباد/تہران:امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے اور ایران پر حملے کی دھمکیوں کے بعد پاکستان عالمی امن کے لئے ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی وزیرداخلہ محسن نقوی اچانک تہران پہنچے ہیں اور ایرانی اعلیٰ حکام سے ان کی ملاقاتیں جاری ہیں۔
محسن نقوی کی ایران کے وزیر داخلہ مومنین سے ملاقات ہوئی ہے ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے امریکہ کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہا ملاقات میں ایران پاکستان تعلقات اور امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی اور ایرانی وزیر داخلہ نے امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔
اس سے پہلے وزیر داخلہ محسوی اچانک غیر اعلانیہ دورے پر تہران پہنچے جہاں وہ ایرانی حکومت کے اعلی حکام کے ساتھ غیر معمولی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ایسے وقت میں ایران گئے ہیں جب امریکہ کی طرف سے ایران پر دوبارہ حملوں کے بارے میں کہا گیا مگر پاکستان کی درخواست پر ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ پاکستان امریکہ اور ایران کا دوست ملک ہونے کے ناطے سے اس معاملے کے سفارتی حل کا خواہاں ہے ۔ ذرائع نے کہا ہے کہ محسن نقوی اپنے ساتھ جو بریف تہران لے کر گئے ہیں اس کے بارے میں کسی قسم کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ۔
یاد رہے کہ وزیرداخلہ محسن نقوی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے 15 سے 18 اپریل 2026 کے دورہ تہران کے موقع پر ان کے ساتھ تھے جس میں انہوں نے ایرانی حکومت فوج اور پاسداران انقلاب کے ساتھ غیر معمولی ملاقاتیں کی تھیں سفارتی حلقوں کے مطابق اس تناظر میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ہوگا۔فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ معاہدے تک پہنچے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر اب بھی عدم اعتماد برقرار ہے۔
یاد رہےکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر جاری سابقہ مذاکرات کے دوران دو مرتبہ ایران پر حملے کرچکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر حملے کی دھمکی میں اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ کچھ پاکستانی دوست تنازعے کے پرامن حل کے لئے کوشاں ہیں۔