فیصلہ سازی کے عمل کو تیز تر بنانا اور روزمرہ امور کی انجام دہی میں غیر ضروری تاخیرکا خاتمہ ہماری ترجیح ہے، راحیل قمر
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)جامعہ کامسیٹس اسلام آباد میں کیمپس ڈائریکٹرز کانفرنس کا پہلا اجلاس جامعہ کے ریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ یہ اجلاس جامعہ میں جاری انتظامی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے اپنے دورِ ذمہ داری کے ابتدائی تین ماہ کے دوران اٹھائے گئے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ منصب سنبھالتے ہی ان کی اولین ترجیحات میں مستقل کیمپس ڈائریکٹرز اور مرکزی انتظامیہ کے کلیدی عہدیداروں کی تقرری شامل تھی، تاکہ برسوں سے جاری عبوری اور عارضی انتظامی بندوبست کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد اس عمل کی کامیاب تکمیل کی علامت ہے اور اب جامعہ کے تمام ذیلی کیمپس مستقل قیادت کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
ریکٹر جامعہ نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران انتظامی اور عملی سطح پر متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے ساتھ ماحول دوست اقدامات کو بھی فروغ دیا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اخراجات میں قابلِ ذکر بچت بھی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اب بہتر نظم و نسق، شفافیت اور مؤثر خدمات کی فراہمی کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام کیمپسز کو ہدایت کی کہ پرانے ریکارڈ اور دفتری امور کو ترجیحی بنیادوں پر برقی نظام میں منتقل کیا جائے تاکہ جامعہ کو مکمل طور پر کاغذ سے پاک اور مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ ادارے میں تبدیل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ برسوں میں برقی طرزِ حکمرانی اور جدید معلوماتی نظام جامعہ کی ترقی اور انتظامی مؤثریت کے بنیادی ستون ہوں گے۔
اجلاس کے شرکاء کو جامعہ کے نئے ’’مطابقتی تعلیمی ماڈل‘‘ کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جسے جامعہ کے مجازی تعلیمی نظام کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے تمام کیمپسز میں اعلی اور عمومی نوعیت کے تعلیمی پروگراموں کی تدریس مزید مؤثر ہوگی، طلبہ کو یکساں تعلیمی معیار میسر آئے گا اور عارضی تدریسی عملے پر انحصار میں بھی کمی واقع ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے مزید بتایا کہ جامعہ کا ’’چھ جہتی فریم ورک‘‘ اب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔کانفرنس میں جامعہ کے مختلف کیمپسز کو درپیش مسائل، مواقع اور ترقیاتی امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ تمام پالیسیوں اور اقدامات کا محور طلبہ کے تعلیمی تجربے میں بہتری، سیکھنے کے نتائج کو مزید مؤثر بنانا اور سہولیات و خدمات کے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ریکٹر جامعہ نے کیمپس ڈائریکٹرز اور مرکزی انتظامی ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز تر بنانے اور روزمرہ امور کی انجام دہی میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے پر زور دیا۔
انہوں نے جامعہ میں خواتین کی مؤثر شمولیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام کیمپسز میں قیادت اور فیصلہ سازی کے مناصب پر خواتین کی نمائندگی کو فروغ دیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ انتظامی و حکمرانی سے متعلق ذمہ داریوں میں خواتین کی شرکت پچاس فیصد تک پہنچ سکے۔
جامعہ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے حوالے سے ریکٹر نے بتایا کہ وہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ایبٹ آباد، اٹک، کوئٹہ اور اسلام آباد کیمپسز کی توسیع اور ترقی کے لیے ضروری مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کی ترقی صرف عمارتوں اور سہولیات تک محدود نہیں بلکہ ایک لاکھ چودہ ہزار سے زائد سابق طلبہ پر مشتمل وسیع برادری کے ساتھ مضبوط روابط بھی اس حکمتِ عملی کا اہم جزو ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے مزید کہا کہ جامعہ کی مستقبل کی ترقی اور توسیع کے لیے مخیر حضرات، صنعت و تجارت کے اداروں اور سماجی ذمہ داری کے تحت کام کرنے والی تنظیموں کے تعاون کو بھی منظم انداز میں فروغ دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سابق طلبہ، صاحبِ حیثیت افراد اور صنعتی شعبے کے قائدین کو قومی اہمیت کے حامل اس عالمی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی ادارے کی ترقی میں شراکت کی دعوت دی جائے گی۔
کانفرنس نے جامعہ کے مختلف کیمپسز میں قیادت کی منتقلی اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور و فکر کا مؤثر موقع بھی فراہم کیا۔ نئے تعینات ہونے والے کیمپس ڈائریکٹرز نے اپنے اپنے کیمپسز کی ترقی، انتظامی بہتری، تعلیمی معیار کے فروغ اور جامعہ کے وسیع تر اصلاحاتی وژن سے ہم آہنگ مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ دوسری جانب سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹرز نے اپنے ادوار کی کارکردگی، نمایاں کامیابیوں، شماریاتی جائزے، دستیاب وسائل اور درپیش چیلنجز پر جامع رپورٹس پیش کیں، جس سے ادارہ جاتی تسلسل اور مؤثر منتقلیِ ذمہ داری کے عمل کو تقویت ملی۔
اس موقع پر مرکزی دفتر کے مختلف شعبہ جات نے بھی پریزنٹیشنز پیش کیں جن میں کیمپسز کو دستیاب سہولیات، معاونت کے نظام، جاری منصوبوں اور آئندہ ترجیحات کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔
کانفرنس میں رجسٹرار ڈاکٹر فہیم اے قریشی، خزانچی محمد اعظم، ناظمِ امتحانات پروفیسر ڈاکٹر سجاد اے مدنی سمیت مرکزی دفتر کے دیگر اعلیٰ عہدیداران اور شعبہ جات کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
ایک روزہ کانفرنس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ آئندہ سو دنوں کے دوران جامعہ کے تمام کیمپسز میں اصلاحات، بہتری اور ادارہ جاتی ترقی کے متعدد اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ جامعہ کامسیٹس اسلام آباد قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی فضیلت کی نئی مثال قائم کر سکے۔




