ایران کے ساتھ معاہدے کے علاوہ نیتن یاہو کے پاس کوئی راستہ نہیں،حملوں میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دیں گے،ٹرمپ
اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا الزام
سفارتی کوششوں اور فوجی کاروائیوں کا مقصد قومی مفادات کو محفوظ بنانا ہےحالات کے مطابق دونوں راستے استعمال کریں گے،ایران
اسلام آباد(رپورٹ:محمد رضوان ملک)ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل داغ دئے ہیں،امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے قریب تھے کہ یہ سب کچھ ہو گیا،انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے حملے کئے تو امریکہ اس کا سساتھ نہیں دے گا۔دوسری طرف ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا،
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران میں تنصیبات پر حملوں کے جواب میں رات 10 بلسٹک میزائل داغنے کے بعد پاسداران انقلاب نے بتایا تھا کہ اسرائیل کا تہران اور تبریز پر فضائی حملے کیے ایرانی حکام کے مطابق یمیکل پلانٹ کو نقصان پہنچا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر اگاہ نہیں کیا گیا اسرائیلی فوج ریڈیو نے خبر دی ہے کہ فوج کے اندازے کے مطابق ایران کے خلاف مہم کئی روز جاری رہ سکتی ہے دوسری جانب یمن کی حوسیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا اسرائیلی جہازوں کی آمد و رفت پر حوسیوں نے پابندی لگانے کا بھی اعلان کر دیا ہے اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ اس نے ایران اور یمن سےآنے والے تین میزائل ناکارہ بنا دیے
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ حتمی ڈیل کے بہت قریب ہیں جو کچھ ہوا نہیں چاہتا کہ اسے اڑا دیا جائےایران جوابی حملہ کرے گا تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا جیسے 47 سال سے چل رہا ہے ایران سے معاہدے پر پیر منگل یا بدھ کو دستخط ہونے تھے اور اب یہ سب کچھ ہو گیا اسرائیل کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے اپنے ارادے سے اگاہ کیا۔ امریکی صدر نے کہا اگر حملہ کیا گیا تو امریکہ اس میں حصہ نہیں لے گا اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو سے پہلے ٹرمپ کا کہنا تھا ک یاہو کو کہوں گا کہ جوابی حملہ نہ کرے ایران کے حملوں سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا امید ہے کہ اسرائیل جوابی کاروائی نہیں کرے گا ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو مشورہ دیں گےآپ نے اپنے میزائل داغ دیے بس اتنا کافی ہےمعاہدے کریں اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملے پر خوش نہیں ہیں برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا ایران کے حملوں نے امریکہ ایران مذاکرات مکمل کرنے کی خواہش کو نہیں بدلا یہ بھی کہا گیا کہ ڈیل ناکام ہوئی تو ایران پر کمانڈو اپریشن پر غور کریں گے۔
امریکا کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے: ایران وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکا ہے۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکا کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا، اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافےکا باعث ہے
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کوئی مان نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکا کےساتھ مکمل ہم آہنگی کے بغیر خطے میں حرکت کرسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکا کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا، اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافےکا باعث ہے، امریکا کی جانب سےجنگ بندی کی خلاف ورزی واضح ہے، جنگ بندی کے پابند تھےوہی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ہم ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سفارت کاری اور میدان ایک ساتھ ہیں اور ملک کے اعلیٰ ترین مفادات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے نے ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جانبدارانہ اور غیر تکنیکی مؤقف اپنایا، امریکا اور صہیونی ادارے دوبارہ کشیدگی کا بنیادی عنصر تھے، لیکن آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ان کی مذمت تک نہیں کی۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ جنگ بندی معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے، سفارتی کوششوں اور فوجی مشقوں کا مقصد ہمارے قومی مفادات کو محفوظ بنانا ہے، ہم حالات کے مطابق دونوں راستے استعمال کریں گے۔ان کا کہنا تھا امریکا کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے، 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل ہو جائے گی، صیہونی ادارے کسی ایسے سفارتی راستے کا احترام نہیں کر سکتے جو ہمارے خطے میں استحکام کا باعث ہو۔
خیال رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ روز سے ایک دوسرے پر متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹیلی فون کر کے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو امریکا اسرائیل کا ساتھ نہیں دیگا لیکن صیہونی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے فون کے کچھ ہی گھنٹے پر ایران پر میزائل حملوں کی بارش کردی، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی بھرپور جوابی حملے کیے جارہے ہیں۔


