صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے پر دستخط کئے وزیراعظم شہبازشریف نے بطور ثآلث دستخط کئے
امریکی صدر کا روئیہ ایران کے حوالے سے نرم ایران کے منجمند اثاثے واپس کرنے سمیت اس کے میزائل پروگرام کا بھی دفاع کرنے لگے
اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)پاکستان اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہو گئے ہیں جس سے دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قتیمتیں تیزی سے کم ہونا شروع ہوگئی ہیں جبکہ سٹاک مارکیٹس بلندی کی طرف گامزن ہیں.
جمعرات کو امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پوزیشن نے امریکہ ایران مفاہمہ کی یادداشت پر دستخت کئے . پاکستان نے بطور ثالث اس کی توسیخ کی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مفاہمتی ہداشت پر دستخت کر دیے دستاویز کو اسلام اباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا ہے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں صدر میکرون کے عشائے کے دوران ایران کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کئے.ایران کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے پر دستخط کئے .جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالٹ ماہدے پر دستخط کئے. پاکستان کی کوششوںکے باعث ہونے والے اس معاہدے کو اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کا نام دیا گیا ہے.
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تاریخی دستاویز کا عکس جاری کر دیا اور کہا کہ مفاہمتی یاداشت کا متن ایرانی قوم کی اواز کی عکاسی کرتا ہے. ایرانی قوم نے دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے اپنی عزت نفس اور خود مختاری کا سودا نہیں کیا
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن کے لیے 60 دن کی مدت کوئی مشکل ڈیڈ لائن نہیں ایران اچھا برتاؤ کرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ایران کا منجمد پیسہ وقت انے پر واپس کریں گے
وزیراعظم شہباز شریف کے امریکی صدر ایران کے رہبر اعلی اور ایران کے صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے مذاکراتی ٹیموں کی بھی تعریف کی انہوںنے کہا فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی انتھک محنت اس پیشرفت کو ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں نہایت اہم رہی.
ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا روئیہ ایران کے حوالے سے مثبت ہورہا ہے اور وہ ایران کے میزائل رکھنے اور اس کے اثاثے واپس کرنے کا دفاع کر رہے ہیں .
۲۸ فروری کو جب اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا تو اسلامی ملک کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا صہیونی ریاست کے بنیادی اہداف میں شامل تھا، جبکہ واشنگٹن اب تک یہ دلیل دیتا آیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے جوہری عزائم کے خلاف بین الاقوامی مداخلت کو روک سکے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کا میزائل پروگرام اب معاہدے کے بعد ۶۰ دن کی مہلت کے دوران ہونے والی گفتگو کا حصہ ہوگا۔
ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران کو کچھ بیلسٹک میزائل رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ان کا یہ بیان، امریکہ اور ایران کے درمیان یادداشت مفاہمت (ایم او یو) کے نافذ العمل ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جو ان کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
فرانس میں جی۔۷ سربراہی اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”میرا کہنا ہے کہ اگر دوسرے ممالک کے پاس یہ موجود ہیں، تو ان (ایرانیوں) کے پاس کچھ نہ ہونا تھوڑی ناانصافی ہے۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ ”بیلسٹک میزائل وہ چیز نہیں ہے جس کا ذکر ہم اس وقت کرتے ہیں جب ہم ایٹمی معاملے پر بات کر رہے ہوں۔ اگر سعودی عرب اور قطر کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں، تو ایران کے پاس ”نسبتی تناسب“ میں ان کا ہونا قابلِ قبول ہوگا۔“ ٹرمپ کے اس بیاں کے بعد، امریکہ اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے ۶۰ روزہ جنگ بندی نافذ کرنے والے ڈجیٹل ایم او یو پر دستخط کئے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے ۱۴ نکاتی معاہدے میں ”لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے“ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ شروع نہ کرنے یا طاقت کا استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنایا جائے گا۔ امریکہ حتمی معاہدے کے ۳۰ دنوں کے اندر ایرانی سرزمین کے قریب تعینات اپنی افواج کو واپس بلا لے گا، جبکہ ایران ۶۰ دنوں کیلئے تجارتی جہازوں کے محفوظ اور ٹول فری گزرنے کیلئے آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔
ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ اسی دن، ٹرمپ نے ایران کے منجمد اثاثے، تہران کو واپس کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ کسی دوسرے ملک کے فنڈز کو مستقل طور پر روکنے سے امریکی ڈالر اور وسیع تر بین الاقوامی مالیاتی نظام پر اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم نے ان کا پیسہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے، یہ ہمارا پیسہ نہیں ہے، یہ ان کا پیسہ ہے… اگر ہم نے اسے واپس نہیں کیا، تو کوئی بھی دوبارہ ڈالر میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔“
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ان فنڈز کو اپنے پاس رکھنے پر غور کیا تھا لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس سے عالمی سطح پر ڈالر کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ان کی صدارت میں کرنسی اس لئے بھی مضبوط ہوئی ہے کیونکہ ممالک کو امریکہ پر یہ بھروسہ ہے کہ وہ تنازعات پر ان کے اثاثے ضبط نہیں کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کے بعد، جمعرات کو ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ منڈیوں میں کشیدگی کم ہونے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی منصوبہ بندی کی توقعات کے باعث برینٹ کروڈ (Brent crude) ۸۹ سینٹ گر کر ۶۶ء۷۸ ڈالر فی بیرل پر آگیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ ۹۸ سینٹ کی کمی کے ساتھ ۸۱ء۷۵ ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔جبکہ سٹاک مارکیٹس میںبھی تیزی دیکھی گئ یہے.


