لبنان کا معاملہ امریکا ایران معاہدے کی سب سے بڑی کمزوری اور اہم امتحان ہے،تریتا پارسی
امریکی خفیہ ایجنسیاں بھی ٹرمپ کو رپورٹ دی چکی ہیں کہ اسرائیل امن معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے
فرانس کے صدر اور خود صدر ٹرمپ اور نائب صدر جےڈی وینس بھی اس خطرے سے آگاہ ہیں
اسلام آباد(رپورٹ :محمد رضوان ملک )امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو خطرے سے دوچار کرنے اور لبنان میں حملے جاری رکھنے کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو لگام ڈالیں .
الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بین الاقوامی شہرت یافتہ تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے شائع کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند نہ کیں تو پورا سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے میں واضح طور پر لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے تاہم اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کو آگے بڑھنے دیا جائے۔
دوسری جانب ایران نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہنے کی صورت میں معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکتی۔
حالیہ اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات بھی مؤخر کر دیے گئے ہیں، ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر بمباری جاری رہی تو اسرائیل کو سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
معروف تجزیہ کار تریتا پارسی کے مطابق لبنان کا معاملہ امریکا ایران معاہدے کی سب سے بڑی کمزوری اور اہم امتحان ہے کیونکہ ایران لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی انخلاء کے مطالبے پر سنجیدہ ہے.
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت میں شہری علاقوں پر حملے قابلِ قبول نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ واقعتاً معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف بیانات نہیں بلکہ اسرائیل پر عملی دباؤ بھی ڈالنا ہو گا تاکہ لبنان میں فوجی کارروائیاں رک سکیں.
یاد رہے کہ قبل ازیں امریکی انٹیلیجنس ادارے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیل ایران امن معاہدے کو سبوتاژ کرسکتا ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کی امریکی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے۔
حکام کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کو لبنان میں جنگ جاری رکھنے کے لیے داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جس کے باعث وہ امن عمل کو متاثر کرنے والے فیصلے کر سکتے ہیں۔
‘پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے’ حزب اللہ کے ہاتھوں فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیلی وزیردفاع کا بیان عالمی امن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے.
انٹیلیجنس رپورٹس، جن میں رواں ہفتے گردش کرنے والی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے ایک بنیادی نکتے یعنی تمام محاذوں پر جنگ بندی کے خلاف ہوگا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق نئی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال طے شدہ قومی انتخابات کے پیش نظر نیتن یاہو کی سیاسی بقا اس بات سے جڑی ہے کہ وہ اپنے عوام کو دکھائیں کہ وہ لبنان سے فوجیں واپس نہیں بلائیں گے اور حزب اللہ کے خلاف لڑائی کو مزید تیز کریں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی شرائط سے ناخوش ہے کیونکہ یہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کے اس کے وسیع تر مقصد کو متاثر کرتی ہیں۔
ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ حزب اللہ کے خلاف اس کی دفاعی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔
خود امریکی صدر ٹرمپ کوبھی اس کا احساس ہے اور وہ کہ چکے ہیں کہ اسرائیل کی بقا امریکہ ہی کی مرہون منت ہے.
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہےکہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں:
ان کا کہنا تھا کہ ایران سے معاہدہ علاقائی امن و استحکام کو یقینی بناتا ہے، خلیجی ممالک کو معاہدہ اچھا لگا ہے کیونکہ اس سے ایران کمزور ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں لبنان میں حزب اللہ مضبوط نہ ہو تاکہ اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ رہے، اسرائیل کو خطرہ نہیں ہوگا تو اسرائیل بھی جنوبی لبنان یا بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے رویے میں تبدیلی تک منجمد اثاثے بحال نہیں کریں گے، خطے میں امریکی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر لے آئیں گے۔انہوں نے کہا امریکا ایران معاہدے کے بعد ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل کی ایک رات میں آبنائے ہرمز سے ترسیل ہوچکی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے اب تک کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، ایران مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کھولنے کی شق کی پاسداری کر رہا ہے۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں طے ہونے والا 60 روزہ دورانیہ آج سے شروع ہوگیا ہے۔جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں تباہ ہوچکی ہیں، ایران بھی اب اپنی معیشت کو بہتر بنانا چاہتا ہے، ایران کا رویہ بہتر رہا تو یہ ایران کے مفاد میں ہی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے بیلسٹک میزائل بنانے والی بہت سی تنصیبات کو تباہ کیا ہے، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران علاقائی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ نہ کرے۔جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے میں بات ہوگی کہ ایران کے پاس دنیا کے لیے خطرہ بننے والے میزائل نہ ہوں، ایران کو اب اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوگی۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران پر پابندیوں کے معاملے میں زیادہ رعایت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے کہ ایران لین دین کیسے کرتا ہے، ہم کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی عارضی طور پر ایران سے پابندیاں ہٹا سکتے ہیں۔جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔
فرانس کے صدر نے بھی لبنان پر حملے روکنے کیلئے امریکا سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے.



