2 سال بعد بابر اعظم پھر قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مقرر

بابراعظم کو ویسٹ انڈیز اور دورہ انگلینڈ کے لئے قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے
بابر اعظم 2023 میں‌ اس وقت مستعفی ہوئے جب وہ تینوں‌فارمیٹس کے کپتان تھے
2024ئ کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لئے انہیں‌ایک بار پھر قومی ٹیم کا کپتنا مقرر کیا گیا
بابر اعظم کے بعد آنے والے کپتانوں میں‌ سے کوئی بھی ٹیم کو وکٹری سٹینڈ پر نہ لے جاسکا
شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ سکواڈ میں‌جگہ نہ بنا سکے، یہ کہنا درست نہیں کہ ان کا کیرئیر ختم ہوگیا، مصباح الحق

لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ‌ کی جانب سے سٹار بلے باز بابر اعظم کو دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لئے ایک بار پھر قومی کرکٹ‌ کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے .
قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کیا۔ اسد شفیق اور سابق کپتان مصباح الحق بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔پاکستان کی 16 رکنی اسکواڈ میں بابر اعظم کپتان، شان مسعود، امام الحق، اذان اویس ، عبداللّٰہ فضل، سلمان علی آغا، غازی غوری
ساجد خان، علی عثمان، عامر جمال، محمد علی، محمد عباس، عبید شاہ، اویس ظفر خرم شہزاد اور محمد رضوان شامل ہیں۔مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل فٹنس مسائل کی وجہ سے اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔
پاکستان ٹیم دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچز سے کرے گی، قومی ٹیم 18 جولائی کو ٹراوبا میں وارم میچ کھیلے گی۔پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ 25 سے 29 جولائی تک ٹراوبا میں کھیلا جائے گا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا ہے کہ میں اور اسد شفیق سلیکشن کمیٹی میں 18 ماہ سے ہیں، مصباح الحق اور سرفراز احمد کو شامل ہوئے 6 ماہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ 3 فارمیٹ ہیں اور آپ کو دیکھنا ہوتا ہے کہ کس فارمیٹ میں آپ کی پرفارمنس کیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ کپتان کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، شان مسعود کی قیادت میں اس طرح نتائج نہیں آرہے تھے جس طرح کی توقع تھی۔مصباح الحق اور اسد شفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ شان مسعود کی اپنی کارکردگی اچھی رہی ہے لیکن ان کی قیادت میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں تھی، اب کوشش کی ہے کہ تبدیلی لائے جائے تاکہ ٹیم کے نتائج اچھے ہوں، فاسٹ بولرز کی اسپیڈ ہمارے لیے فکر مندی کی بات ہے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ کوئی بھی کرکٹ بورڈ یا سلیکشن کمیٹی یہ نہیں چاہے گی کہ کپتان ایک سیریزکے لیے ہو، تسلسل کے ساتھ موقع ملنا چاہیےاور یہ موقع پرفارمنس کے ساتھ ملتا ہے، اگر سب اچھا جا رہا ہو تو پھر تبدیل کرنے کی ضرورت تو نہیں، ہم تو یہی چاہیں گے کہ جس کو بھی موقع ملے دو تین سال کے لیے موقع ملے۔عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ بابر اعظم نے سلیکشن کمیٹی سے کبھی نہیں کہا کہ انہیں تینوں فارمیٹ کا کپتان بنائیں گے تو وہ ٹیسٹ کی کپتانی قبول کریں گے، سوشل میڈیا پر بہت چیزیں فیک ہوتی ہیں، تصدیق کرلیا کریں۔
دوسری جانب مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں تسلسل بہت اہم ہوتا ہے، تسلسل سے ہی کامیابی ملتی ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ بحیثیت پلیئر اور کپتان کارکردگی میں تسلسل ہے یا نہیں۔مصباح الحق کا کہنا تھا بابراعظم پر ٹی ٹوئنٹی میں اسٹرائیک ریٹ پر سوال اٹھایا جاتا تھا، لیکن پی ایس ایل میں بابر اعظم نے ثابت کیا کہ اس کی اہمیت تینوں فارمیٹ میں ہے، بابر اعظم کو تمام فارمیٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ہمیں بابر اعظم کو اعتماد دینا ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم نے انہیں کہاں استعمال کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا اس ٹیم کے اعلان سے یہ کہنا درست نہیں کہ فلاں کا کیرئیر ختم ہو گیا، نسیم شاہ اورشاہین آفریدی کو فرسٹ کلاس کھیلنے کی ضرورت ہےتاکہ وہ بہتر نظر آئیں، دونوں کھلاڑی ریڈ بال سے آؤٹ نہیں ہوئے۔