مشکل وقت عمران کو پرانے دوستوں‌کی یاد ستانے لگی

پارٹی کے ابتدائی ساتھی اور سابق سیکرٹری اطلاعات اکبر ایس بابر کے نام جیل سے اہم پیغام
پیغام میں ابتدائی دور کے ساتھیوں اور ناراض رہنماؤں و کارکنوں کو دوبارہ متحد کرنے کی درخواست کی گئ ہے


اسلام آباد(نیوزرپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان جو اس وقت مختلف مقدمات میں‌ اڈیالہ جیل میں‌قید ہیں‌.اس مشکل وقت میں‌انہیں‌ماضی کے دوستوں‌کی یاد ستانی لگی ہے اور انہوں‌ نے پارٹی کے ابتدائی ساتھی اور سابق سیکرٹری اطلاعات اکبر ایس بابر کے نام جیل سے اہم پیغام بھیجا ہے.
اکبر ایس بابر نے تصدیق کی کہ عمران خان کا پیغام جیل میں موجود ایک دیرینہ دوست کے ذریعے ان تک پہنچایا گیا۔
جس میں بانی پی ٹی آئی نے انہیں پارٹی کے ابتدائی دور کے ساتھیوں اور ناراض رہنماؤں و کارکنوں کو دوبارہ متحد کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام جیل میں موجود ایک دوسرے دیرینہ دوست کے ذریعے ان تک پہنچایا گیا، پیغام میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جیل سے جب بھی باہر آیا تو سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جاؤں گا۔
یاد رہے کہ عمران خان اور اکبر ایس بابر کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی ابتدائی تاریخ سے ہے۔ اکبر ایس بابر پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں جنہوں نے 1996ء میں عمران خان کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی تھی اور وہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور بلوچستان کے صدر بھی رہے۔ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہو گئے، جو بعد میں الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ (ممنوعہ فنڈنگ) کیس کی صورت میں سامنے آئے۔
اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے ابتدائی ساتھیوں میں شامل تھے اور انہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر پارٹی کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔باہمی اختلافات اور پارٹی کے اندرونی نظام پر تنقید کی وجہ سے اکبر ایس بابر طویل عرصے تک پی ٹی آئی سے الگ رہے۔اکبر ایس بابر نے 2014ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے خلاف مبینہ غیر ملکی اور ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرنے کا کیس دائر کیا۔اکبر ایس بابر کا مؤقف تھا کہ پارٹی کی مالیاتی امور میں شفافیت نہیں ہے اور اندرون و بیرون ملک سے آنے والے فنڈز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔ اس مقدمے کی وجہ سے عمران خان اور اکبر ایس بابر کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے، اور پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا جبکہ اکبر ایس بابر قانونی جنگ لڑتے رہے۔عمران خان جہاں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیراعظم بنے، وہیں اکبر ایس بابر پارٹی کے بانی ہونے کے باوجود اندرونی احتساب اور فنڈنگ کے تنازع کی وجہ سے عمران خان کے شدید ترین سیاسی ناقدین میں شمار ہونے لگے۔
یہ بھی واضح رہے کہ 2024 ئ میں‌پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے عمران خان کو مصالحت کی پیشکش کی تھی. اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکبر ایس بابر کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو پیشکش کررہا ہوں، ایک مصالحتی راستے پرچلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین 3 نمائندے اور ایک وکیل نامزد کریں، ایک وکیل سمیت 3 نمائندے ہم بھی نامزد کرتے ہیں، یہ نمائندے آپس میں بیٹھ کر ایک فریم ورک بنائیں، اب ہم نے آگے جانا ہے پارٹی کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہم کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کر رہے ہیں، بنیادی اصول طے کیے جائیں چاہے جتنا بھی وقت کیوں نہ لگے۔اکبر ایس بابر کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف پر قبضہ گروپ مسلط ہے جو نہیں چاہتا یہ جمہوری پارٹی بنے، آگے کا راستہ ہم نے دے دیا ہے، یہ پی ٹی آئی کے لیے ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کے مترادف ہے۔