سینٹ کی مجلس قائمہ برائے سمندر پار پاکستانیز نے شادی کر کے چین لے جا کر پاکستانی خواتین کے ساتھ زیادتیوں معاملے پر خارجہ حکام سے بریفنگ طلب کرلی

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) سینٹ کی مجلس قائمہ برائے سمندر پار پاکستانیز نے شادی کر کے چین لے جا کر پاکستانی خواتین کے ساتھ زیادتیوں معاملے پر خارجہ حکام سے بریفنگ طلب کرلی۔ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو او پی ایف کی جانب سے بیرون ملک پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے اُٹھائے گئے اقدامات تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی کیلئے سفارشات مرتب کر ے گی۔ سینٹر صابر شاہ نے کمیٹی میں چائینیز مردوں کا پاکستانی خواتین سے شادی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ آجکل میڈیا پر چائینیز مردوں کی پاکستانی خواتین سے شادی کی خبریں بہت آرہی ہیں، سنا ہے ان شادیوں کے بعد پاکستانی خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ جس پر چئیرمین کمیٹی نے کہا چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔تاثر ہے کہ عالمی سطح پر تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چئیرمین سینٹر ہلال الرحمان کی عدم موجودگی میں ابتدائی طور پر کمیٹی کا اجلاس سینیٹر شاہین خالد بٹ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں اورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کی جانب سے بیرو ن ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اختیار کئے گئے طریقہ کار اور نئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر شاہین خالد بٹ نے کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اہم ہے اور اُن کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے تاہم انہوں نے اس بات پر ضروردیا کہ کمیونٹی کو اُن تمام اقدامات کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے جو او پی ایف نے کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے اُٹھائے ہیں اور اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ایم ڈی او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ فلاح و بہبود کے شعبے میں بیرو ن ملک پاکستانیوں کی مالی امداد، بیرون ملک فوت ہوجانے والوں کی میتوں کو وطن لانے کی سہولت، ائیرپورٹس پر خصوصی کاؤنٹرز، شکایات سیل، بیرون ملک پاکستانیوں کے مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے عدالتوں کا قیام، خصوصی ممبر شپ کارڈ،ایم آر پی پارسپورٹ کی سہولت اور دیگر اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن کا مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں یہ بات تسلیم کی کہ رابط کاری میں مسائل درپیش ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی، سماجی رابطوں اور نئے اقدامات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی ممکن ہوگی۔ کمیٹی نے ملائشیا میں قید عبدالرحمن نامی پاکستانی باشندے کی عوامی عرضداشت پر بھی تفصیلی بحث کی اور او پی ایف کی جانب سے اس ضمن میں اُٹھائے گئے اقدامات پر غور کیا۔سیکرٹری اورسیز پاکستانی ڈویژن نے عبدالرحمن کے معاملے کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ملائشیاء میں پاکستانی سفارتخانے کی رپورٹ موصول ہو چکی ہے۔ ملائشیا کی اعلیٰ عدالت نے قتل میں ملوث ملزم عبدالرحمن کو سزائے موت دی ہوئی ہے اب صرف دو طریقوں سے ریلیف مل سکتی ہے کہ یا تو شاہی معافی کیلئے رجوع کیا جائے یا پھر نظرثانی کی اپیل دائر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عبدالرحمن کے خاندان نے ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے کہ ریلیف کیلئے کونسا آپشن استعمال کیا جائے۔ عبدالرحمن کے والد نے کمیٹی کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ہلال الرحمن بعد میں دوران اجلاس شریک ہوئے۔انہوں نے بھی بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل کے حل اور انہوں زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے پر ضرور دیا۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سید محمد صابر شاہ، مرزا محمد آفریدی، مولوی فیض محمد، نگہت مرزا، شاہین خالد بٹ، نجمہ حمید، ثمینہ سعید اور ڈاکٹر شہزاد وسیم کے علاوہ وزارت اورسیز پاکستانیز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت
کی۔