فرشتہ کیس میں پیش رفت
اسلام آباد پولیس نے دس سالہ بچی فرشتہ کو ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے مقدمے میں حراست میں لیے گئے تین مشتبہ افراد کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان ملزمان میں ناصر، عباس اور منشی شامل ہیں جبکہ چوتھے مشتبہ شخص کی گرفتاری نھیں ڈالی گئی ہے۔ پولیس نے ان تینوں ملزمان کو متعقلہ عدالت میں پیش کر کے اُن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔
فرشتہ قتل مقدمے کی تفتیش اسلام آباد پولیس کا سی آئی اے کا محکمہ کر رہا ہے۔ مقامی پولیس ناصر نامی شخص کو اس واقعے کا ماسٹر مائنڈ قرار دے رہی ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹISLAMABAD POLICEاُدھر وزیر اعظم عمران خان نے بھی دس سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفتیش میں سست روی کا مظاہرہ کرنے پر رات گئے ڈی ایس پی شہزاد ٹاؤن سرکل عابد حسین کو معطل جبکہ ایس پی رورل سرکل عمر خان کو او ایس ڈی بنا دیا ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد پولی کلینک کی انتظامیہ نے مقتولہ کے پوسٹمارٹم میں تاخیر کرنے پر میڈیکو لیگل افسر عابد شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
ان پولیس افسران کو معطل اور او ایس ڈی بنانے سے پہلے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی 22 مئی کی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فرشتہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ نوجوان نسل کو بچانے کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا ہونا ہوگا۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج مقدمے کی تفتیش میں کسی بھی معاونت کے لیے تیار ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے دس سالہ فرشتہ کے قتل سے متعلق رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی ہے جس میں تھانہ شہزاد ٹاؤن کے انچارج اور تفتیشی عملے کی کوتاہی کا ذکر کیا گیا ہے۔
واقعے کا پس منظر
پولیس ذرائع کے مطابق متقولہ فرشتہ کے والد گل نبی جب 15 مئی کو اپنی بچی کی گمشدگی کے بارے میں متعقلہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے کے لیے گئے تو تھانے کے ایس ایچ او اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر اُنھیں مذاق میں یہ کہتے تھے کہ ‘فرشتہ کو کوئی فرشتہ لے گیا ہوگا۔’
مقامی پولیس کے مطابق فرائض سے غفلت برتنے پر اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم ان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے اُنھیں متعقلہ عدالت میں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا۔
معطل کیے گئے ایس ایچ او غلام عباس نے مقامی عدالت سے 31 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری لے لی ہے۔
ان پولیس افسران کے خلاف مقدمہ مقتولہ فرشتہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مقتولہ کے والد نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے بھی ملاقات کی تھی اور قومی اسمبلی کے سپیکر نے اُنھیں انصاف کی مکمل فراہی کا یقین دلایا ہے۔
وفاقی حکومت نے مقتولہ فرشتہ کے والدین کے لیے 20 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ امداد اُن مطالبات میں سے ہے جو کہ مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے سامنے رکھے تھے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال پنجاب کے شہر قصور میں کمسن بچی زینب کو ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے پر اُس وقت کی حزب اختلاف اور موجودہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد ‘زینب الرٹ بل’ کے علاوہ ایسا کوئی بھی بل پارلیمنٹ میں لیکر نہیں آئی۔




