وکلا متفق ہیں قاضی فاءز عیسی کے خلاف بھیجے جانے والا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔واءس چیرمین پاکستان بار کونسل

’وکلا متفق ہیں ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے‘

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے کہا ہے کہ تمام وکلاء تنظیمیں متفق ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بھیجے جانے والا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کیخلاف ریفرنس کے معاملے پر پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبائی بار کونسلز کا اہم اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہوا۔

اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا اور کئی اہم فیصلے بھی کئے گئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں وکلا 14 جون کو ہڑتال کریں گے،اس موقع پر وزیر قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کی بار کونسل کی رکنیت ختم کی جائے۔

میڈیا سے گفتگو میں امجد شاہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور وزیرقانون دونوں ہی قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف ریفرنس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف ریفرنس عدلیہ کی آزادی کی نفی ہے، ہمارا احتجاج اور تحریک کا کسی ادارے یا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، قانون کےدائرہ کار میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔

امجد شاہ نے مزید کہا کہ بہت سارے زیر التوا ریفرنس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن تعجب ہے حکومت اتنے کمزور ریفرنس پر کیوں بضد ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے پہلے بھی جدوجہد کی اور اب بھی کریں گے۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حافظ ادریس کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے جج صاحبان کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا بلکہ یہ ریفرنس آرٹیکل 10 اے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ بار پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ان ججز میں لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے ایک، ایک جج بھی شامل تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج فرخ عرفان چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کے دوران استعفیٰ دے چکے ہیں اس لیے ان کا نام ریفرنس سے نکال دیا گیا ہے۔

صدارتی ریفرنسز پر سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون کو طلب کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی حکومت کے ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں۔

اس معاملے پر سینیٹ میں ججز کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس بھیجنے پر ججز کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی جا چکی ہے۔

ملک بھر کی بار ایسوسی ایشن میں صدارتی ریفرنس کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ارکان پارلیمنٹ سے ججز کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر صدر مملکت عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کیا تھا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اس ضمن میں صدر مملکت کو دو خط لکھ چکے ہیں جس میں انھوں نے ریفرنس کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔