آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف جیالوں کا احتجاج

سلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جعلی اکاؤنٹ کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ضمانت منسوخ ہونے اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے انہیں گرفتار کیے جانے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں پی پی پی کارکنوں نے مظاہروں کا آغاز کردیا۔ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے فوری بعد پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کی جانب سے احتجاج کا فیصلہ کیا گیا اور سندھ میں (11) جون کو یوم سیاہ منانے اعلان کیا۔

پی پی پی رہنما نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ احتجاج سندھ بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں ہوگا اور یہ مکمل طور پر پُرامن ہوگا۔

بعد ازاں میڈیا رپورٹس کے مطابق سکھر میں آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف پی پی پی جیالوں نے احتجاج کیا اور قومی شاہراہ بلاک کردی۔

قومی شاہراہ بلاک ہونے کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی۔

علاوہ ازیں لاہور کے علاقے گڑھی شاہو اور فیروز پور روڈ پر بھی جیالوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی۔

ادھر لاڑکانہ میں بھی مختلف علاقوں میں احتجاج کیاگیا، اس موقع پر کئی مقامات پر سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے اور دکانیں و مارکیٹیں بند کرادی گئیں۔

علاوہ ازیں کراچی پریس کلب کے باہر بھی پی پی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

آصف زرداری کی گرفتاری سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج کیا تھا۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا تھا

 

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری قومی اسمبلی سے اپنی گرفتاری دینا چاہتے تھے تاہم انہیں اجلاس کے لءے نہ جانے دیا گیا اور زرداری ہاءوس سے انہیں گرفتار کر لیا گیا