عالمی عدالت میں متحدہ عرب امارات کی قطر کےخلاف فوری اقدامات کی درخواست مسترد

اقوام متحدہ کی ریاست کے مابین تنازع حل کرنے والی عدالت نے متحدہ عرب امارات کی عرب ممالک میں مبینہ طور پر تفرقہ پیدا کرنے کے تنازع پر قطر کے خلاف فوری اقدامات کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

15-1 ووٹ کے ساتھ عالمی عدالت کے ججز نے یو اے ای کی ویب سائٹ جو یو اے ای سے ملک بدر کیے گئے قطری باشندوں کو واپس جانے کا پرمٹ دیتی ہے، پر یو اے ای کو ہی رسائی نہ دینے پر قطر کے خلاف فوری اقدامات کرنے کی درخواست مسترد کی۔

دوران سماعت عدالت نے موقف اپنایا کہ دوحہ تنازع کو مزید بڑھا رہا ہے۔

واضح رہے کہ معاملے کا آغاز 2017 میں ہوا تھا جب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور مصر نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا تھا اور سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔

دوحہ نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

قطر نے عالمی عدالت انصاف میں گزشتہ سال جون کے مہینے میں کیس دائر کیا تھا۔

قطر کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بائیکاٹ کرتے ہوئے ہزاروں قطری شہریوں کو ملک بدر کیا، ٹرانسپورٹ بند کیا اور دوحہ کے الجزیرہ نیوز چینل کے دفاتر بند کردیے تھے۔

تاہم عدالت نے بتایا کہ جن حقوق کا دعویٰ کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے تفرقہ مخالف معاہدے کے زمرے میں نہیں آتے اور ان پر فوری اقدامات کی ضرورت نہیں، ان پر فیصلہ اس وقت سنایا جائے گا جب کیس کو پوری طرح سے سنا جائے گا۔

گزشتہ جولائی، عدالت نے قطر کی درخواست پر دبئی کے خلاف پروویژنل اقدامات کی اجازت تھی۔

واضح رہے کہ آئی سی جے اقوام متحدہ کا ادارہ ہے جو ریاستوں کے مابین قانونی تنازع کو سن کر فیصلہ کرتا ہے تاہم اس کے پاس اپنے فیصلوں پر عمل در آمد کرانے کا اختیار نہیں۔

عدالت کی جانب سے حتمی فیصلے میں عمومی طور پر سالوں لگ جاتے ہیں کیونکہ کسی بھی کیس کو سننے کی مدت مقرر نہیں ہوتی۔